سازشوں کی اپنوں کے شامل ہوئے بغیر کامیابی ممکن نہیں ۔۔! - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

سازشوں کی اپنوں کے شامل ہوئے بغیر کامیابی ممکن نہیں ۔۔!


چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک میں پانی کی قلت بین الاقوامی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پانی کا مسئلہ مجرمانہ غفلت ہے پانی کی کمی کا مسئلہ متعلقہ اداروں کی نااہلی کے باعث ہواہم سب کو ڈیم بنانے کے لیے بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے‘ ہمیں اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں اور ہمیں بطور ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا انتہائی ضروری ہے‘جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے تک فوری انصاف میں مشکلات رہیں گی، جج صاحبان کو بھی اپنے اندر فوری انصاف فراہم کرنیکا جذبہ پیدا کرنا ہو گا‘میں نے کوشش کی کہ ازخود نوٹسز لے کر لوگوں کی مدد کرسکوں، لیکن میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں اپنے ہاوس کو ان آرڈر نہیں کر سکا‘ عدالتی نظام میں بہت سی اصلاحات موجود ہیں، بس ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ انصاف پوری محنت اور لگن کے ساتھ دیں گے ‘عدالتی نظام میں اصلاحات بہت ضروری ہیں ملک میں پانی کا مسئلہ غیرملکی سازش، متعلقہ اداروں کی نااہلی اور مجرمانہ غفلت ہے. ڈیم بنانا ناگزیر ہو چکا ہے، آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل چھوڑ کر جائیں گے پاکستان دھرتی ماں ہے، پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان کے بغیر ہم کچھ نہیں، یہ ملک ہمیں کسی نے تحفے میں نہیں دیا بلکہ بہت قربانیوں سے حاصل ہوا، ہمیں ایک جگہ جم کر نہیں کھڑے رہنا بلکہ آگے بڑھنا ہے، دیکھیں کہ ہم نیاپنی ماں کی کیا خدمت کی ؟، آج ہر پیدا ہونا والا بچہ ایک لاکھ 70 ہزار روپے کا مقروض ہے،ہمیں وعدہ کرنا ہوگا کہ انصاف پوری محنت اور لگن کے ساتھ دیں گے کوشش کے باوجود اپنے ہاس کو ان آرڈر نہیں کرسکا، مجھے اپنا گھر ٹھیک کرنا ہے، بار صرف ایک حصہ ہے، عدالتی نظام میں تبدیلی بتدریج آتی ہے، عدالتی نظام میں بہت سی اصلاحات کرنا ضروری ہیں، بعض اوقات قوانین میں تبدیلی کے باوجود بہت سے نتائج حاصل نہیں کیے

جاسکتے، ہم دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق قوانین میں ترامیم نہیں کرسکے، جج صاحبان کو بھی اپنے اندر فوری انصاف فراہم کرنے کا جذبہ پیداکرنا ہو گا، جب تک قانون پر عملداری کا جذبہ نہیں ہوگا،اس وقت تک بہتری نہیں لائی جا سکتی.

ضرور پڑھیں: ریحام خان باز نہ آئیں، اپنے سابق شوہر عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے بارے میں ایسا دعویٰ کر دیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا

ہمیں بطورایک ادارہ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنا چاہیے، کسی جج کواپنی غلطی کااحساس ہوجائیتووہ اگلیدن اس کامداوا کرے.چیف جسٹس آف پاکستان نے پانی کی قلت کو بین الاقوامی ساز ش قرار دیدیا ہے لیکن کوئی بھی سازش اپنوں کی شمولیت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی گذشتہ کم وبیش 50سال میں ڈیم نہیں بنے قرض لئے منصوبوں کی فیز بیلٹی رپورٹس پر اربوں روپے ضائع کئے لیکن ڈیم نہیں بنائے ان کا ذمہ دار کون ہے سب کو معلوم ہے لیکن انہیں سزا دینے والا کوئی نہیں یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک سے کرپشن ختم نہیں ہورہی چیف جسٹس نے قانون میں لچک اور عدلیہ کی کوتاہیوں کا بھی ذکر تو کردیا لیکن سدباب کون کریگا اس کا جواب کسی کے پاس نہیں اور نہ ہی کوئی حل نکالنے والا ہے اس صورتحال میں اچھائی نہیں مزید برائیوں اور تباہی کی توقع ہے .
 

..

ضرور پڑھیں: زنا کیا ہے؟اس کی کتنی قسمیں ‘ کون کون سی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں ‘ایسا انکشاف جس نے سب کو ہلاکررکھ دیا