اسرائیلی پارلیمنٹ کا فیصلہ اسرائیل صرف یہودی ریاست،فلسطینی بے آسرا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

اسرائیلی پارلیمنٹ کا فیصلہ اسرائیل صرف یہودی ریاست،فلسطینی بے آسرا


اسرائیلی غاصب اور جابر صہیونی حکومت کی بربریت کا سلسلہ تمہنے میں نہیں آرہا صہیونی فوج نے فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر ایک بار پھر اندھا دھند فائرنگ کردی جس میں دو فلسطینی شہید 45سے زائد کو زخمی کردیا گذشتہ 18ہفتوں میں 154فلسطینی اسرائیلی درندگی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں ہے چند روز قبل ہی اسرائیلی پارلیمنٹ نے اسرائیل کو خالص یہودی ملک قرار دیدیا تھا افسوس کا مقام ہے کہ ان سارے اقدامات پر مسلمان حکمرانوں نے خاموشی سادھ رکھ ہے اسرائیلی کے قیام کے وقت ہی نسل پرستی کو ڈھکے چھپے انداز سے اپنایا گیا. سات لاکھ عرب باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے بعد وہ علاقہ اسرائیل کا حصہ بنالیا گیا.

ضرور پڑھیں: ”ہمیں تو چائے ملی اور نہ ہی بیٹھنے کیلئے صحیح جگہ لیکن۔۔۔“ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شریک کرکٹرز کا ”شکوہ“ بھی سامنے آ گیا، جان کر آپ حیران پریشان رہ جائیں گے

اقوام متحدہ کے طے کردہ تمام اصولوں کو یکسر بالائے طاق رکھتے ہوئے اسرائیلی حکومت نے ان عرب باشندوں کو واپسی کا حق دینے سے بھی محض اس دلیل کی بنیاد پر انکار کردیا کہ یہ نسلی یہودی نہیں، اس لیے ان علاقوں پر ان کا کوئی حق نہیں. اکثریت یقینی بنانے کے اس طریق کار کو دنیا بھر میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، بھرپور مذمت کی جاتی رہی ہے. جن علاقوں میں عرب 55فیصد تھے وہاں، اسرائیلی اقدام کے بعد، یہودی 80فیصد ہوگئے. آج غزہ میں انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں زندگی بسر کرنے والے فلسطینی دراصل وہی عرب باشندے اور ان کی اولادیں ہیں جنہیں اسرائیلیوں نے 1948ء میں اپنی سرزمین سے بے دخل کردیا تھا. جب یہ فلسطینی غزہ اور 1949ء سے1967ء تک کے اسرائیل کی سرحد پر جمع ہوکر اپنی آبائی زمین کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو نسل پرستانہ نظام کو چیلنج کرتے ہیں. بنیادی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قانون (بشمول قبرص، آرمینیا اور آذر بائیجان سے متعلق یورپین کورٹ آف ہیومن رائٹس کے فیصلے)کسی بھی نسلی آبادی کو اس کی آبائی سرزمین سے نزدیک ترین علاقوں کو واپس جانے کا حق دیتا ہے.بیشتر اسرائیلی اس بات کے خلاف ہیں کہ فلسطینیوں کو ان کی زمینوں پر واپسی کا حق دیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی اکثریت قائم ہوجائے گی. اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ غلط ہے تو پھر

میں مصنوعی طریقے سے معرض وجود میں لائی جانے والی یہودی اکثریت کو برقرار رکھنا کیوں درست ہے؟ اسرائیل نے1967 ء میں جنوبی افریقا کی نسل پرست پالیسی اپنایا. غرب اردن، مشرقی بیت المقدس اور غزہ پر قبضہ کرنے کے بعد اسرائیل نے وہاں کے شہریوں کو شہریت کے حق سے بھی محروم کردیا. واضح رہے کہ جنوبی افریقا میں سفید فام اکثریت کا امتیازی نظام 46سال برقرار رہا تھا جبکہ اسرائیل میں اپنایا جانے والا امتیازی نظام نصف صدی پوری کرچکا ہے. اسرائیل کی حکومت اب تک اس پورے معاملے کو'' عارضی'' قرار دیتی آئی ہے. غرب اردن میں نئی بستیاں بساکر پانچ لاکھ سے زائد یہودیوں کو آباد کیا جاچکا ہے. غزہ میں رہنے والے اگرچہ اسرائیل کے ماتحت ہیں مگر انہیں اسرائیل کی شہریت دی گئی ہے، نہ ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا ہے.اسرائیل کی حدود میں اب بھی ایسے لاکھوں عرب باشندے ہیں جنہیں شہریت ملی ہوئی ہیں اور وووٹ ڈالنے کا حق بھی دیا گیا ہے پھر بھی اسرائیلی پارلیمنٹ نے اسرائیل کو یہودی ریاست قرار دے کر ان کے حقوق غصب کرلیے ہیں 
 

..

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا