حکومت سازشی ،عمران کیخلاف کرپٹ مافیا کے متحد ہونیکی کوششیں  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

حکومت سازشی ،عمران کیخلاف کرپٹ مافیا کے متحد ہونیکی کوششیں 


پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن نے حلف نہ لینے کے حوالے سے جمعیت علماء اسلام کا موقف مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھانے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام نے اسمبلیوں میں جانے کا فیصلہ اے پی سی سے مشروط کر دیا ہے ،انتخابات میں دھاندلی کے خلاف مشترکہ احتجاجی تحریک چلانے یا اسمبلیوں کے اندر احتجاج کرنے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ ن اور جمعیت علماء اسلام سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے پیپلز پارٹی کے وفد نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی ہے انہوں نے کہاکہ پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو نے انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر مستعفی ہوجائیں انہوں نے کہاکہ ہم اسمبلیوں میں بیٹھنے کے حامی ہیں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سب پارٹیوں نے انتخابی نتائج مسترد کردیئے ہیں انہوں نے کہاکہ اسمبلیوں میں جانے یا نہ جانے سے کے حوالے سے تمام تر معاملات اے پی سی میں رکھیں گے اور وہاں پر جو بھی فیصلہ ہوگا قوم اور ملک کے وسیع تر مفاد میں تسلیم کریں گے انہوں نے کہاکہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور عوام کے حق کو چھیننے والوں کے خلاف جنگ لڑیں گے اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے وفود کے درمیان ہونے والی ملاقات میں ن لیگ کی جانب سے شاہد خاقان عباسی، ایاز صادق اور مشاہد حسین سید شامل ہوئے جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے خورشید شاہ، نوید قمر، یوسف رضا گیلانی، راجا پرویز اشرف، شیری رحمان اور قمر زمان کائرہ موجود تھے

ملاقات کے دوران دونوں جماعتوں کے رہنماوں نے انتخابات کے نتائج پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور معاملہ پارلیمنٹ میں لے جانے کا فیصلہ کیادونوں جماعتوں نے ارکان کے حلف نہ لینے کی تجویز مسترد کردی ملک کی رنگ بدلتی سیاسی صورتحال میں جوڑ توڑ کی سیاست عروج پرپہنچ گئی ہے اور وفاق میں حکومت بنانے کے لیے تحریک انصاف کو عددی اکثریت حاصل نہ ہونے پر پیپلزپارٹی نے اپوزیشن جماعتوں کو دانہ ڈال دیا ہے اور عمران خان کا پارلیمنٹ میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پہلے پیپلزپارٹی نے تحریک انصاف کو حکومت بنانے کا موقع دینے کا اعلان کیا تھا مگر تمام تر کوششوں کے باوجود عمران خان کے پاس ابھی سات اراکین کم ہیں اور کسی بھی جماعت کا کوئی رکن فلور کراسنگ نہیں کر سکتا اس لیے پیپلز پارٹی نے مرکز میں حکومت بنانے کے خواب دیکھنا شروع کر دئیے ہیں. چونکہ پنجاب کے علاوہ وفاق میں بھی سادہ اکثریت کسی سیاسی جماعت کے پاس موجود نہیں ہے م ور موجودہ سیاسی صورتحال میں چھوٹی جماعتوں کی اہمیت میں اضافہ ہوگیا ہے مرکز اور پنجاب میں حکومت سازی میں مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم، بی این پی اور اے این پی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں جبکہ آزاد امیدواروں کی حمایت بھی تینوں بڑی جماعتوں کیلئے اہم ہے کیونکہ چھوٹی سیاسی جماعتیں اور آزاد امیدوار ملکر ہی کسی پارٹی کو سادہ اکثریت دلا سکتے ہیں .

ضرور پڑھیں: ”ہمیں تو چائے ملی اور نہ ہی بیٹھنے کیلئے صحیح جگہ لیکن۔۔۔“ عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شریک کرکٹرز کا ”شکوہ“ بھی سامنے آ گیا، جان کر آپ حیران پریشان رہ جائیں گے

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی اگر ایم یم اے کو قومی اسمبلی لانے میں کامیاب ہوئے تو ایک نیا موڑ ہو گا .پی پی پی، ن لیگ اور ایم ایم اے ،ایم کیو ایم، جمہوری وطن پارٹی، نیشنل پارٹی، بی این پی اور آزاد اراکین سے ملکر تحریک انصاف پر عددی اکثریت حاصل کر لیں گی اکثریت ملنے کی صورت میں تینوں جماعتوں کے ہارنے والے اہم رہنماؤں کو ضمنی الیکشن لڑانے کی تجویز بھی زیر غورہے. اور تو اور پیپلز پارٹی وزارت اعظمی کا امیدوار بھی لے آئی ہے اور عمران خان کا قومی اسمبلی میں مقابلہ خورشید شاہ یا بلاول بھٹو کرینگے کامیابی کی صورت میں چئیرمین سینیٹ پیپلز پارٹی، سپیکر اور صدر ن لیگ کا ہوگا .مجلس عمل اور دیگر ہم خیال جماعتوں کو بھی وزارتیں اور عہدے ملیں گے بعض اراکین نے آصف زرادری کو دوبارہ صدر بنانے اور وزیراعظم ن لیگ سے لینے کی تجویز دی ہے . مسلم لیگ ن ان تجاویز پر اپنی قیادت کو آگاہ کرے گی حکومت بنانے کی کوششوں پر فضل الرحمن بھی خوش ہیں اور ، تعاون کا عندیہ دے دیا ہے اور پیپلز پارٹی کسی بھی جماعت کو پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سے روکنے میں کامیاب نظر آنے لگی ہے مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے نے مرکز میں حکومت سازی کے لیے مثبت جواب دیا تو آصف زرداری کو فیصلہ کن مرحلے کے لیے میدان میں لایا جائے گا.عمران خان کو آزاد منتخب اراکین اسمبلی اور دوسری جماعتوں کے تعاون حاصل کرنے میں ناکامی کی بڑی وجہ عمران خان کا کرپشن کے خلاف شور ہے پیپلز پارٹی اور ن لیگ تو واضح طور پر کرپشن کیسز کی زد میں ہیں جبکہ دیگر کو بھی خوف ہے پھر جلتی پر تیل کا کام عمران خان کے اس موقف نے دے دیا ہے کہ کسی بھی کرپٹ رکن اسمبلی کو وزیر نہیں بنایا جائے گا جس کے خلاف نیب میں شکایات ہوچکی لہذا اب اصل مقابلہ کرپٹ مافیا اور کرپشن ختم کرنے کے دعویدار کے درمیان ہے .
 

..

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا