بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی جماعتوں کیساتھ واضح اکثریت  - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

بلوچستان عوامی پارٹی کی اتحادی جماعتوں کیساتھ واضح اکثریت 


عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی اور بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر میر جام کمال نے کہا ہے کہ بلوچستان میں حکومت سازی سے حوالے سے مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا اور صوبے کی ترقی وخوشحالی کے لئے ملکر جدوجہد کرینگے ماضی میں ہونیوالے نا انصافیوں کا ازالہ کیا جائے گا سی پیک جیسے عظیم منصوبے میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو ان کا حق دلا نے کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے بلوچستان کے معاملات کو سنجیدگی سے حل کر نا ہو گا تمام سیاسی جماعتوں سے رابطے رکھے ہیں ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے چیئرمین عبدالخالق ہزارہ پی ٹی آئی، بی این پی مینگل اور جے یو آئی سمیت دیگر جماعتوں سے بھی رابطے جاری ہیں وزیراعلیٰ بلوچستان کا اعلان ایک دو دن میں کیا جائیگا اصغر خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے تمام جمہوری قوتوں کو مبارکباد پیش کر تے ہیں کہ جمہوری طریقے اور عوام کی طاقت سے ایوان میں آئیں یہ جمہوریت کا حسن ہے کوئی پارلیمنٹ جاتا ہے اور کوئی ہارتا ہے انتخابات ہو تے ہیں اور انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہو جا تا ہے بلوچستان عوامی پارٹی نے عوامی نیشنل پارٹی سے رابطہ کیا اور اس کے بعد اے این پی کے پارلیمانی بورڈ، پارلیمانی پارٹی، سینٹرل کمیٹی اور صوبائی قیادت کا ایک مشترکہ اجلاس ہوا جس میں تمام تر صورتحال کو مد نظر رکھا اور ہر پہلو پر غور کیا گیا اور پشتونوں نے جس طرح عوامی نیشنل پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا لمبی عرصے بعد اے این پی کو پارلیمانی قوت بنایا مرکز سے لے کر صوبے تک اور صوبے سے لے کر اضلاع تک اور اضلاع سے لے کر بنیادی یونٹوں تک عام انتخابات میں جو کردار ادا کیا وہ ہمارے لئے قابل ستائش ہے اور ہم جمہوری سوچ پر یقین رکھتے ہیں بلوچستان عوامی پارٹی عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے اور جمہوری تقاضا یہی ہے کہ جو مینڈیٹ عوام کسی بھی سیاسی جماعت کو دیں گے اس کو تسلیم کیا جائے حکومت سازی میں بلوچستان عوامی پارٹی کو ہر حوالے سے سپورٹ کرینگے بلوچستان پسماندہ ہے اور ان کی پسماندگی کو ختم کرنے میں سب کو اپنا کردا رادا کرنا چا ہئے عبدالخالق ہزارہ نے کہاکہ ہزارہ ڈیمو کریٹک پارٹی وسیع جمہوری سوچ رکھتی ہے ہماری کوشش ہے کہ تمام اقوام کو ساتھ لے کر چلیں بلوچستان عوامی پارٹی سے ہمارا اتحاد ہوچکا ہے سابقہ اتحاد کو خود بی این پی نے توڑا جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی صدر اور نامزد وزیراعلیٰ جام کمال نے کہا

کہ بلوچستان میں حکومت بننے کے بعد صوبہ کی ترقی اور خوشحالی کے لئے مشترکہ طورپر اقدامات اٹھائیں گے بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادیوں کی تعداد 23 تک ہو گئی ہماری کوشش ہوگی کہ صوبہ میں ایسی حکومت تشکیل دی جائے جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی شامل ہوں تاکہ صوبہ کی ترقی اور خوشحالی کے حوالے سے مشترکہ طورپر اقدامات اٹھائے جائیں ہم سب سے پہلی ترجیح امن وامان سمیت دیگر صورتحال پر توجہ ہے کیونکہ امن وامان کی صورتحال بہتر کئے بغیر ہم ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوسکتے انہوں نے کہا کہ حکومت میں آکر امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنائیں گیہم سمجھتے ہیں کہ بلوچستان کی بقاء اسی میں ہے کہ ہم کسی دوسرے کے فیصلے اپنے اوپر مسلط نہ کریں بلکہ اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کریں انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات اچھے بنائیں گے ہم نے کسی بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کئے اور ہمیشہ خطے میں بڑا کردار ادا کیا ہے اس بارے کوئی دورائے نہیں کہ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی اور اتحادی جماعتوں کی ہی حکومت بنے گی محسوس ہوتا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کے رویے کی وجہ سے شاید جمعیت کو اپوزیشن میں بیٹھنا پڑے ممکن ہے بی این پی مینگل ساتھ ہو کیونکہ بی اے پی کو اے این پی ایچ ڈی پی ،آزاد تحریک انصاف کے ساتھ واضح اکثریت حاصل ہوجائے گی .
 

.

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا

.

ضرور پڑھیں: ’’تو یہ میرے لیڈر عمران خان کا خواب تھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ زرتاج گل نے ایوان صدر پہنچتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ پی ٹی آئی کارکنان کیلئے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا