موبائل صارفین کے لیے دھماکہ خیز خوشخبری ۔۔۔۔ کال ریٹ میں ناقابل یقین کمی کی خوشخبری آ گئی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

موبائل صارفین کے لیے دھماکہ خیز خوشخبری ۔۔۔۔ کال ریٹ میں ناقابل یقین کمی کی خوشخبری آ گئی


لاہور (قدرت روزنامہ) نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے اینکر کامران خا ن نے کہا ہے کہ صارفین کے لئے اچھی خبر ہے کہ اب موبائل فون کال سستی ہو جائے گی لیکن حکومتی ٹیکسوں پر اس کا برا اثر پڑے گا اسی وجہ سے حکومتی مشینری میں پریشانی کی لہر دوڑ گئی، پی ٹی اے کے اعدادو شمار کے مطابق وفاقی حکومت موبائل صارفین سے سالانہ 128ارب روپے کماتی ہے اس میں 46ارب روپے سیلز ٹیکس جبکہ 82ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس اور دیگر ڈیوٹیز کی مد میں آتے ہیں. اب عام آدمی کو یہ بھی امید ہوئی ہے کہ جس طرح سے چیف جسٹس نے موبائل کارڈ پر یہ ٹیکس ختم کیا ہے ، اگر ان کی نظر کرم پڑے تو پٹرولیم مصنوعات پر عائد بے انتہا ٹیکسز بھی ختم کردئیے جائیں .

ضرور پڑھیں: ’’مجھے اب ڈرلگتا ہے کہ ۔ ۔ ۔‘‘ معروف اداکارہ ریشم نے شادی سے ہی انکار کردیا ، وجہ ایسی کہ آپ کو بھی شدید دکھ ہوگا

پٹرول جو 87روپے 70پیسے فی لٹر ہے اس پر حکومت 22روپے سیلز ٹیکس اور 8روپے لیوی وصول کررہی ہے یعنی ایک لٹر پٹرول کی اصل قیمت 57روپے 70پیسے ہے جس پر 30روپے ٹیکس لیا جا رہا ہے مگر ایف بی آر اور حکومتی حلقے یہ کہتے ہیں کہ حکومت ٹیکس لگا کر ہی چلتی ہے چونکہ پاکستان میں مطلوبہ طریقے سے ٹیکس جمع نہیں ہوتا،اس حوالے سے سابق مشیر وزیر اعظم سینیٹر ہارون اختر نے کہا کہ حکومت کو ٹیکس وصول کرنا ہوتے ہیں اور وہ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ کن ذرائع سے یہ ٹیکس وصول کرے ان میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس،ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹم ڈیوٹی ہوتی ہے ،پوری دنیا میں موبائل فون پر ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں ملائیشیا،انڈونیشیا،بنگلہ دیش میں پاکستان کے مقابلے میں بہت زیادہ ٹیکس ہیں .یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے دوسرے ممالک میں پٹرولیم مصنوعات پر بھی اسی طرح ٹیکس لئے جاتے ہیں پاکستان میں خطے کے تمام ممالک میں سب سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے، اگر ہم پچھلے سال بھارت کی شرح سے پٹرولیم مصنوعات پر

ٹیکس لگاتے تو ہمیں 600ارب روپے وصول ہوتے یہی صورتحال بنگلہ دیش کی ہے جہاں جی ڈی پی کے 2فیصد کے حساب سے ٹیکس عائد ہے انھوں نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق موبائل کارڈ پر ٹیکسز معطل ہوئے ہیں یہ معطلی دو دن کے بعد سے شروع ہوگی اور یہ 15دن تک رہے گی ،موبائل کمپنیاں 10فیصد سروس چارجز وصول کرتی ہیں جہاں تک ٹیکسوں کا تعلق ہے وہ دو قسم کے ٹیکس ہیں ایک ایڈوانس انکم ٹیکس جو وفاقی حکومت اکٹھا کرتی ہے یہ ساڑھے 12فیصد ہے پچھلے دو سالوں میں ہم نے اسے 14فیصد سے کم کر کے ساڑھے بارہ فیصد کیا ہے .سب سے بڑا ٹیکس سیلز ٹیکس ہے کیونکہ یہ سہولت ایک سروس ہے اور سروس پر سیلز ٹیکس صوبوں کے اختیار میں ہے یہ ٹیکس صوبے جمع کرتے ہیں جو ساڑھے 19 فیصد ہے وفاقی حکومت ٹیکس کی مد میں 50ارب روپے اکٹھا کرتی ہے اور صوبے 80ارب روپے اکٹھا کرتے ہیں اس طرح یہ 130ارب روپے بنتا ہے ابھی یہ ٹیکسز معطل کئے گئے ہیں.ایک عام آدمی کے لحاظ سے فاضل جج صاحبان کی یہ تشویش بجا ہے کہ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ان سے ٹیکس کیوں لیا جا رہا ہے ایف بی آر کی منطق یہ ہے کہ اگرموبائل کارڈز پر یہ ٹیکس جمع نہ کیا جائے تو ہمارا مالیاتی خسارہ مزید تین فیصد بڑھ جائے گااور وہ 5سے 8فیصد ہو جائے گایہ معیشت کے لئے اچھا نہیں ہے .سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کے پاس 15دن ہیں عدالت کو یہ بتایا جائے کہ کیا طریقہ کار استعمال کیا جائے کہ غریب آدمی پر ٹیکس نہ لگے اور دیگر صاحب حیثیت لوگوں پر ٹیکس لگے توقع ہے 15دن میں کوئی خاطر خواہ حل نکل آئے گاجس طرح بجلی کے بلوں میں 300یونٹ سے نیچے ٹیکس نہیں ہے اسی قسم کا فارمولا عدالت میں پیش کیا جاسکتا ہے غریب آدمی کے بل پر یہ ٹیکس نہ لگے تا ہم صاحب حیثیت پر یہ ٹیکس لگنا چاہیے .(س)

..

ضرور پڑھیں: ’’تو یہ میرے لیڈر عمران خان کا خواب تھا کہ ۔ ۔ ۔‘‘ زرتاج گل نے ایوان صدر پہنچتے ہی ایسی بات کہہ دی کہ پی ٹی آئی کارکنان کیلئے جذبات پر قابو پانا مشکل ہوجائے گا