ووٹوں کی سر عام خرید و فروخت : یہ ووٹ کون خرید رہا ہے؟ کراچی سے آنے والی خبر نے ہر کسی کو حیران کر دیا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ووٹوں کی سر عام خرید و فروخت : یہ ووٹ کون خرید رہا ہے؟ کراچی سے آنے والی خبر نے ہر کسی کو حیران کر دیا


کراچی(قدرت روزنامہ)دیہی علاقوں کی طرح کراچی شہر کے بعض حلقوں میں سیاسی جماعتوں نے مختلف برادریوں کے سرکردہ افراد سے برادری کے ووٹوں کے حصول کے لئے گٹھ جوڑ کرلیا ہے جس کے بعد سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اقتدار میں آکر انہیں مراعات اور فائدے پہنچائیں گے بعض حلقوں میں برادریوں کے عمائدین سے ووٹوں کی خرید و فروخت بھی کی گئ ہے جبکہ مضافاتی علاقوں ضلع غربی، ملیر، شرقی با اثر افراد نے اپنے امیدواروں کو جتانے کے لئے ووٹرز سے شناختی کارڈ جمع کرنا شروع کردیئے ہیں جس کے بعد سے انہیں معاوضہ بھی ادا کیا جارہا ہے کہ تمام غیر قانونی مضافاتی بستیوں میں برادریوں ، قبائلیوں کے عمائدین بااثر افراد اور امیدواروں کی ملی بھگت سے کررہے ہیں.دوسری جانب 25 جولائی 2018 کو ہونے والے عام انتخابات کے حوالے سے ایک تازہ سروے میں معلق پارلیمنٹ کی پیشگوئی کی گئی ہے.

ضرور پڑھیں: اس سنت نبوی ؐ پرعمل کریں سرکادردمنٹوں میں غائب ہوجائے گا

نئے جائزے میں مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دکھایا گیا ہے. قطعی اکثریت ان دونوں میں سے کسی کو بھی حاصل نہیں ہوسکے گی جبکہ عوام کی اکثریتی رائے کے مطابق پاکستان غلط سمت میں بڑھ رہا ہے. تاہم رائے دہندگان کی اکثریت نے اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے جن کا تناسب 2013 میں 76 فیصد سے بڑھ کر اب 82 فیصد ہوگیا ہے.اس رائے عامہ جائزے کے مطابق مقبولیت میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے آگے ہیں. نواز شریف کے نعرے ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کو منقسم ردعمل ملا ہے.سروے میں 32فیصد نے مسلم لیگ (ن)، 29فیصد نے تحریک انصاف اور 13فیصد نے پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے.یہ سروے انسٹی ٹیوٹ آف پبلک اوپینیئن ریسرچ نے امریکی فرم گلوبل اسٹریٹجک پارٹنرز کے تعاون سے کرایا ہے

.13جون تا 4 جولائی کے درمیان ہونے والے اس سروے میں ملک بھر سے 3735 چنندہ افراد کی رائے معلوم کی گئی جس میں سے تقریباً 72 فیصد نے جواب دیا.انتخابات میں برتری کا پیمانہ 35فیصد رکھا گیا اور کوئی بھی پارٹی اس پیمانے پر پوری نہیں اترتی تاہم تحریک انصاف کی نومبر2017 میں مقبولیت 27فیصد سے اضافہ ہوکر جولائی2018 میں29 فیصد ہوگئی جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مقبولیت اس عرصہ میں37 فیصد سے گھٹ کر 32 فیصد رہ گئی. پیپلز پارٹی کی پوزیشن 13فیصد پر برقرار ہے.انفرادی طور پر عوامی مقبولیت میں شہباز شریف ( 60فیصد) سر فہرست ہیں. ان کے بعد عمران خان (53فیصد)، نواز شریف (47 فیصد) ، شاہد خاقان عباسی (41 فیصد)، مریم صفدر (40فیصد) اور بلاول بھٹو زرداری (38 فیصد) کے نمبر پر آتے ہیں.شہباز شریف اپنے ترقیاتی کاموں سے معروف ہیں تو عمران خان کی مقبولیت تبدیلی کے نعرے اور ایمانداری کی وجہ سے ہے.لوگوں کو مسلم لیگ (ن) کے بارے میں تین بڑے ایشوز کے بارے میں سننے یا پڑھنے سے دلچسپی ہے. ان میں ترقیاتی کام، پانامااسکینڈل اور کرپشن سے متعلق معاملات شامل ہیں جبکہ تحریک انصاف کے حوالے سے لوگوں کو عمران خان کی بشریٰ بی بی سے شادی، ریحام خان کی آنے والی کتاب اور کرپشن کے خلاف ان کی جنگ کے بارے میں سننے یا پڑھنے میں دلچسپی ہے.(

..

ضرور پڑھیں: شوہر اور بیوی ایک دوسرے کو بغیر لباس کے دیکھنے کے بارے میں پیارے نبی ﷺ نے کیا فرمایا ہے۔۔

مزید خبریں :