ملک بھر میں تمام مذہبی جماعتوں کے کتنے امیدوار عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ؟تعداد جان کر سیاسی جماعتیں بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گی - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ملک بھر میں تمام مذہبی جماعتوں کے کتنے امیدوار عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں ؟تعداد جان کر سیاسی جماعتیں بھی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گی


لاہور(قدرت روزنامہ)نتخابات 2018 میں مذہبی جماعتوں کے امیدواروں کی ریکارڈ تعداد میں شرکت نے شدت پسندی کے خلاف قومی بیانئے اور کی کامیابی کے دعووں پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ، قومی انتخابات میں مذہبی جماعتوں کی غیرمعمولی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے ان میں مذہبی جماعتوں کے 1300 سے زائد امیدوار حصہ لے رہے ہیں،جن میں قومی اسمبلی کی 272 نشستوں پر مذہبی جماعتوں کے 500 جبکہ چاروں صوبائی اسمبلیوں کی 577 نشستوں پر 835 امیدوار الیکشن لڑ رہے ہیں، جبکہ مذہبی جماعتوں کی مقبولیت کی اس نئی لہر کی وجہ سے بڑی سیاسی شخصیات بھی ان کی حمایت حاصل کرنے کے لئے ان سے رابطوں پر مجبور ہیں. پاکستنان میں مذہبی جماعتوں کو ملنے والی پذیرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی رکن پانچ جماعتوں کے 595 جبکہ سنی تحریک کے 61 امیدوار حصہ لے رہے ہیں تو اس کے ساتھ دو نئی مذہبی جماعتیں حافظ سعید کی حمایت یافتہ تحریک اللہ اکبر اورممتازقادری کی پھانسی کے ردعمل میں علامہ خادم رضوی کی قیادت میں ابھرنے والی تحریک لبیک بھی پہلی بار قانون سازاداروں تک پہنچنے کے لئے میدان میں اتری ہیں، جن میں تحریک اللہ اکبر کے 265 جبکہ تحریک لبیک یارسول اللہ کے 401 امیدوار قومی اور صوبائی اسمبلیوں کا الیکشن لڑ رہے ہیں،اس طرح دو نئی مذہبی جماعتوں کی آمد سے قومی سیاست میں پہلے

سے موجود مذہبی جماعتوں کے حجم میں دوگنا اضافہ ہوگیا ہے.

ضرور پڑھیں: سنی لیونی واحد بھارتی نہیں جنہوں نے فحش فلموں میں کام کیا بلکہ۔۔۔“ ایسی 10 بھارتی لڑکیاں منظرعام پر آ گئیں جنہوں نے بیرون ملک جا کر فحش فلموں میں اداکاری شروع کی، تفصیلات جان کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی

اس کے علاوہ حال ہی میں پابندی کا خاتمہ ہونے کے بعد  اہلسنت و الجماعت کے مولانا محمد احمد لدھیانوی اور ان کے دیگر ساتھی بھی انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں ،اس طرح ملک میں مجموعی طور پر دینی جماعتوں کے 1335 سے زائد امیدوار اس وقت ملک میں بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں سرگرم ہیں اور قانون ساز اداروں میں پہنچ کر اپنے منشوراور نظرئیے کے تحت پاکستان میں قانون سازی کرنا چاہتے ہیں.تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دینی جماعتوں کا زیادہ تر حلقہ اثر وسطی و جنوبی پنجاب ، خیبرپختونخوا اور کراچی ہیں، جہاں سے انہوں نے زیادہ امیدوار دئیے ہیں ،متحدہ مجلس عمل نے چاروں صوبوں میں امیدوار دئیے ہیں، تحریک لبیک کا زیادہ زور وسطی پنجاب کے اضلاع میں ہے

تحریک اللہ اکبر کی طاقت کا مرکز بھی پنجاب ہے جبکہ سنی تحریک کا زیادہ فوکس کراچی پر ہے. پاکستان میں سیاسی شخصیات مذہبی جماعتوں کی اس تیزی سے بڑھتی مقبولیت کو مین سٹریم سیاست کے لئے نقصان دہ بھی قرار دیتی ہیں لیکن ساتھ ہی وہ الیکشن کے دنوں میں ان کی حمایت حآصل کرنے پر بھی مجبور ہیں، حال ہی میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے سیال شریف، اور گولڑہ شریف کی درگاہوں پر حاضری دے کر ان سے حمایت مانگی تو سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی اسلام آباد میں اہلسنت والجماعت کے مرکز  پرجاکر انہیں جیتنے کی پوری کوشش کی. مذہبی جماعتوں کا موقف ہے کہ سیاسی جماعتوں کی ناکامی

، خراب کارکردگی اور کرپشن کی کہانیوں نے عوام کو ان سے بدظن کردیا ہے اور وہ اب ان کا مذہبی جماعتوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے تاہم دوسری طرف سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ملک میں قومی دھارے کی بڑی سیاسی جماعتوں کی جس انداز سےتوڑ پھوڑ ہورہی ہے یا کی جارہی ہے تو اس کے تنیجہ میں پیدا ہونے والے خلا کو مذہبی جماعتیں پر کررہی ہیں، لیکن اس سلسلہ میں ریاست کی طرف سے ان کی حوصلہ افزائی اس

قومی بیانئے سے کسی طورمطابقت نہیں رکھتی جس میں ہم ایف اے ٹی ایف کے تحت گرے لسٹ میں شامل کئے جانے کے بعد عالمی رائے عامہ کو یہ باور کرانے کے لئے کوشاں ہیں کہ پاکستان ایک اعتدال پسند ملک ہے، اور ہم شدت پسندی کے خاتمے کے لئے اقدامات کررہے ہیں.

..

ضرور پڑھیں: ایک ایسا انوکھا ریسٹورینٹ جہاں ’شیر‘ آپ کا استقبال کرے گا، جانئے حیرت انگیز خبر

مزید خبریں :