حکومتی منصوبوں کے علاوہ وہ اقدام جن سے قدرتی وباؤں کو روکا جاسکے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

حکومتی منصوبوں کے علاوہ وہ اقدام جن سے قدرتی وباؤں کو روکا جاسکے


(قدرت روزنامہ)انسان نے اپنے طرز زندگی کو آرام دہ اور سہل بنانے کے جنون میں اس کرہ ارض کے قدرتی نظام میں کچھ اس طرح بگاڑ پیدا کیا ہے کہ فی الوقت دنیا کا ہر خطہ قدرتی آفات اور موسمی تبدیلیوں کی زد پر ہے. اس الوقت یورپ، امریکا، ایشیاء اور افریقہ کے متعدد ممالک کو تاریخ کے گرم ترین موسم گرما کا سامنا ہے اور گلوبل وارمنگ کی بدولت بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت نے یہاں نظام زندگی مفلوج کیا ہوا ہے، ساتھ ہی دنیا بھر میں بلند ترین درجۂ حرارت کے باعث پانی کا بحران شدید تر ہوتا جارہا ہے اور ایک وسیع علاقے کو شدید خشک سالی کا سامنا ہے.

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

دنیا بھر میں موسموں کے بدلتے ہوئے مزاج کے باعث اب کسی بھی وقت کوئی غیر متوقع صورتحال رونما ہونا کوئی حیرانکن کام نہیں رہا، ساتھ ہی رواں برس سے ان موسمی تغیرات میں مزید شدت آگئی ہے، رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں ہی برطانیہ اور یورپ کو تاریخ کے بدترین برفانی طوفان کا سامنا کرنا پڑا جو نہ صرف معمول کے برخلاف تھا بلکہ اس کی شدت بھی ماضی کے طوفانوں کی نسبت بہت زیادہ تھی. اسی طرح جولائی سے ستمبر تک متعدد امریکی ریاستیں سمندری طوفانی کی زد پر ہوں گی اور ان طوفانوں کی شدت پچھلے برس کے ہریکن ہاروے اور ارما سے زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے، اس کے علاوہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سے اس وقت دنیا بھر میں 4 کروڑ 50 لاکھ افراد کو شدید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال کا سا منا ہے. دنیا بھر میں ان موسمی تبدیلیوں یا ان کے باعث آنے والی قدرتی آفات میں سب سے زیادہ جانی نقصان وبائی امراض پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ہوتا ہے جن میں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والی بیماریاں جیسے ڈ ینگی،چکن گونیا اور زیکا وائرس قابل ذکر ہیں. ان میں ڈ ینگی وائرس سب سے زیادہ خطر ناک ثابت ہوا ہے کیوں کہ یہ خشک سالی اور شدید بارشوں دونوں صورتوں میں بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور نہ صرف ایشیاء وافریقہ کے پسماندہ ممالک میں اس وبا کے باعث کافی جانی نقصان ہوچکا ہے بلکہ یورپ اور امریکی ریاستیں بھی اب اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں. گذشتہ کچھ عرصے میں دیگر ممالک کی طرح کریبیئن اور ملحقہ علاقوں کو بھی ڈینگی اور چکن گونیا کے شدید حملوں کا سامنا رہا . واضح رہے کہ اس خطے کو ال نینو کے اثرات کے باعث کئی سالوں سے شدید خشک سالی کا سامنا ہے، ال نینو، بحرالکاہل کے پانیوں میں غیر معمولی درجۂ حرارت کے اضافے کو کہا جاتا ہے، یہ عمل اس وقت رونما ہوتا ہے جب سمندر کا پانی آخری حد تک گرم ہوکر بہت زیادہ توانائی ماحول میں خارج کرکے دنیا بھر میں موسمی بگاڑ لاتا ہے، یہ ہواؤں کا رخ پلٹ کر، بادل اور طوفان بادو باراں کے سسٹم مشرق کی طرف منتقل کر دیتا ہے جس سے وہاں طوفانوں کی شرح بڑھ جاتی ہے جبکہ مغربی علاقے بارشوں کی قلت کے باعث خشک سالی کی زد پر رہتے ہیں. کریبیئن کی طرح دیگر علاقوں میں بھی کئی برس کی خشک سالی کے دوران لو گ اپنی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لیے پانی جوہڑوں، تالابوں یا پھر گھروں میں ٹنکی وغیرہ میں ذخیرہ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، ذخیرہ شدہ یہ پانی بہت جلد بدبودار اور جراثیم زدہ ہو جاتا ہے اور مچھروں کی افزائش نسل کا باعث بنتا ہے جو ڈینگی اور دیگر وبائی امراض کو پھیلانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں. کریبیئن میں کئی برس کی خشک سالی کے دوران یہ امراض متعدد علاقوں میں پھیل چکے تھے اور حال ہی میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ شروع ہوتے ہی ان کے پھیلاؤ میں شدت آگئی اور چونکہ امکان ہے کہ یہ بارشیں 4 سے 6 ماہ لگاتار برسیں گی اس لیے وہ علاقے جہاں سیلاب کے پانی کے بہاؤ کا مناسب انتظام نہیں وہاں مچھروں کے ذریعے پھیلنے والے امراض کسی نئے المیے کو جنم دے سکتے ہیں. طبی تحقیق کے مطابق ڈینگی ایک بہت تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے اور اس وائرس کی 4 اقسام ہیں جنہیں باالترتیب ڈینگی وائرس 1،2،3 اور 4 کے نام دیے گئے ہیں، یہ وائرس عموما مادہ مچھر کے کاٹنے سے جسم میں منتقل ہوتے ہیں یہ مادہ مچھر دن کے اوقات میں پانی کے ذخیروں جیسے حوض، ٹنکی یا جوہڑ وغیرہ کے پاس کثرت سے پائے جاتے ہیں. یہ بھی پڑھیں: قدرتی آفات اور پاکستان ایسے گھر جہاں صفائی کا مناسب انتظام نہیں ہوتا اور گھروں کے باہر کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں وہاں ان مچھروں کی افزائش ہوتی ہے، ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے مرض کی علامات فورا ظاہر نہیں ہوتیں بلکہ اگلے 3 سے 6 دن تک متاثرہ شخص معمول کے کام سر انجام دیتا رہتا ہے. کچھ صورتوں میں 4 اور کچھ میں 7 دن بعد ہلکے ذکام سے مرض کا آغاز ہوتا ہے جس کے بعد ایک دم سے تیز بخار چڑھ جاتا ہے اور ساتھ ہی آنکھوں، جوڑوں، پٹھوں اور ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے اس کے علاوہ سر درد، ہاتھوں اور جسم کے دیگر حصوں میں شدید خارش کے ساتھ سرخ رنگ کے دھببے پڑنے لگتے ہیں. ان ابتدائی علامات کے بعد اگر مریض کو بر وقت طبی امداد دیدی جائے تو مسئلہ ذیادہ پیچیدہ نہیں ہوتا اور مریض کو علیحدہ وارڈ میں رکھ کر مرض کو پھیلنے سے روک لیا جاتا ہے لیکن اگر کسی وجہ سے مرض کی بر وقت تشخیص نہ ہوسکے یا مناسب طریقے سے علاج نہ ہو تو مریض کی حالت بگڑنے لگتی ہے اور بخار شدید ہو جاتا ہے جسے 'ڈینگی ہومو ریجک فیور 'کہا جاتا ہے، اس میں شدید تیز بخار کے ساتھ متلی، پیٹ میں درد اور ڈائیریا کے بعد مثانے سے خون آنے لگتا ہے، مریض کے جسم میں دوران خون بگڑ جانے سے جسم کو جھٹکے لگتے ہیں اور دل کے دورے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے، جسے ڈینگی شاک سائنڈرم کہا جاتا ہے، اس حد تک حالت خراب ہو جانے کے بعد مزید علاج ممکن نہیں رہتا اور چند ہی روز میں متاثرہ شخص کی موت واقع ہوجاتی ہے تاہم اکثر کیسز میں مریض کی حالت کا انحصار وائرس کی اقسام پر بھی ہوتا ہے. جنوبی ایشیاء کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ڈینگی وائرس تباہی پھیلاتا رہا ہے اور ہر برس کی طرح 2018 میں بھی مون سون کا سیزن شروع ہوتے ہی سندھ اور پنجاب سے ڈینگی کے کیسز سامنے آنا شروع ہو گئے. اگرچہ اس برس مون سون کی بارشیں معمول سے بہت کم برسی ہیں اور ابھی تک لاہور کے علاوہ کہیں بھی سیلابی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا، تاہم محکمہ موسمیات کی رپورٹس میں بارشوں کا امکان ظاہر کیا جاتا رہا ہے. عالمی ادارہ صحت (ڈبلوی ایچ او) کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2016 میں 16 ہزار 580 افراد ڈینگی کا شکار ہوئے، جن میں سے 257 کی صرف لاہور میں موت واقع ہوئی جبکہ ملک کے دیگر علاقوں سے 500 ڈینگی کیسز سامنے آئے اور 60 افراد لقمہ اجل بنے. پچھلے برس 2017 میں یہ اعداد و شمار یکدم ہولناک حد کو جا پہنچے اور پورے ملک سے 78 ہزار 820 کیسز رپورٹ ہوئے جن میں سے صرف 17 ہزار 828 افراد کی لیبارٹری سے تصدیق ہو سکی، مگر قابل غور بات یہ ہے کہ گزشتہ رس زیادہ تر کیسز پنجاب کے بجائے خیبر پختونخوا سے سامنے آئے جن کی تعداد 68 ہزار 142 تھی...

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی