جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی خطرناک بیماریوں کی علامات - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

جنسی تعلقات کے ذریعے منتقل ہونے والی خطرناک بیماریوں کی علامات


لندن(قدرت روزنامہ)) کئی بیماریاں ایسی ہیں جو انسانوں کو جنسی تعلق سے لاحق ہوتی ہیں. ان بیماریوں کی کچھ خفیہ علامات ہوتی ہیں.

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

آئیے آپ کو ان بیماریوں اور ان کی خفیہ علامات سے متعلق آگاہ کریں. اگر آپ میں ان میں سے کئی علامت موجود ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں.یہ بیکیٹریا کی انفیکشن کی وجہ سے ہوتی ہے، ابتدائی سٹیج پر اس کی تشخص مشکل ہے ، عموماً آغاز میں اس کی بہت معمولی علامات ظاہر ہوتی ہیں. اس کی علامات میں پیشاب کے وقت تکلیف کا ہونا، پیٹ کے نچلے حصے میں تکلیف ہونا، عورتوں کو دوران جماع تکلیف ہونا، مرد کو خصیوں میں تکلیف ہونا وغیرہ شامل ہیں.یہ بھی ککروں سے ملتی جلتی بیماری ہے جو بیکٹیریا سے ہوتی ہے.بعض لوگوں میں 2سے 10دن کے اندر اس کی پہلی علامت ظاہر ہو جاتی ہے لیکن کئی افراد میں یہ مہینوں خفیہ رہتی ہے. مردوخواتین کو گاڑھا پیشاب آنا یا پیشاب میں خون آنا، پیشاب کے وقت تکلیف یا جلن ہونا،بار بار پیشاب آنا اور دوران مباشرت تکلیف ہونا اس کی علامات میں سے ہیں.ایچ آئی وی مریض کے جسم کی قوت مدافعت کا قلع قمع کر دیتی ہے جس کے باعث وائرس، بیکٹیریا اور فنجائی آزادانہ طور پر حملے کرتے ہیں اور متاثرہ شخص ایک وقت میں کئی امراض میں مبتلا ہو جاتا ہے اور نتیجتاً اسے ایڈز جیسا موذی مرض لاحق ہو جاتا ہے. بعض لوگوں میں ایچ آئی وی میں مبتلا ہونے کے 2سے 6ہفتے کے دوران فلو جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں.دیگر علامات میں بخار ہونا، سردرد ہونا، عمومی کمزوری، لمفی غدودوں(Lymph glands)میں سوجن آ جانا اورجسم پر سرخ رنگ کے دانے نکلنا شامل ہیں.ایچ آئی وی کی یہ ابتدائی علامات ایک ہفتے سے ایک مہینے کے درمیان ختم ہو جاتی ہیں اور عموماً دیگر وائرس سے لگنے والی بیماریوں کی بھی یہی علامات ہوتی ہیں. ایچ آئی وی کی وہ علامات جن سے اس کی مکمل تشخیص ہو جاتی ہے ممکن ہے ان کے ظاہرہونے میں انسان کے وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 10سال یا اس سے زائد عرصہ بھی لگ جائے.ایچ آئی وی کا سب سے پہلی واضح علامت یہ ہے کہ لمفی غدہ کا سائز بڑھ جاتا ہے. لمفی غدہ انسان کی جلد کے اندر چھوٹی چھوٹی ابھار والی جگہیں ہوتی ہیں ،مثال کے طور پر آپ انہیں اپنی گردن پر چھوٹے چھوٹے دانوں کی شکل میں محسوس کرسکتے ہیں، جو دیگر مستند علامتوں میں ڈائیریا، وزن میں کمی، مسلسل بخار رہنا، کھانسی اور سانس لینے میں دشواری شامل ہیں. ایچ آئی وی کی اس کے بعد کی سٹیج میں مستقل تھکاوٹ، رات کو پسینہ آنا، کئی ہفتوں تک 38ڈگری تک کا بخار رہنا، لمفی غدود پر 3ماہ سے زیادہ سوجن رہنا وغیرہ جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں.ہیپاٹائٹس(یرقان)ہیپاٹائٹس ایک اچھوتی مرض ہے جس کی 3سٹیجز اے ، بی اور سی ہیں اور یہ مرض انسانی جگر کو ناکارہ کرتا ہے.ہیپاٹائٹس بی اور سی زیادہ خطرناک ہیں. کچھ لوگوں میں اس مرض کی علامات کبھی بھی ظاہر نہیں ہوتیں لیکن کچھ لوگوں میں اس کی مندرجہ ذیل علامات نمودار ہوتی ہیں: کمزوری، جی متلانا اور قے آنا، پیٹ کے نچلے حصے میں اور خاص طور پر جگر میں پسلیوں کے نیچے دائیں طرف بے سکونی اور تکلیف کا ہونا، بھوک میں کمی، گہری رنگت کا پیشاب آنا، بخار ہونا، خارش، جلد اور آنکھ کے سفید حلقے کا زرد ہوجانا...

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی