دانتوں کی سفیدی کو کیسے واپس لایا جائے؟ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

دانتوں کی سفیدی کو کیسے واپس لایا جائے؟


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) سفید دانتوں کی چمک سے اپنی مسکراہٹ کو جگمگانا کس کی خواہش نہیں ہوتی اور لاتعداد افراد اس مقصد کے لیے ہزاروں روپے ڈینٹسٹ کو دے کر ان کی صفائی بھی کرواتے ہیں مگر اس مقصد کو حاصل کیا جائے؟ تو اس کا جواب بظاہر تو آسان ہے اور وہ ہے زیادہ برش کرنا، مگر یہ کام اتنا بھی آسان نہیں. سب سے پہلے تو یہ جان لیں کہ دانتوں کی سفیدی کی دو اقسام ہوتی ہے بیرونی اور اندرونی. پہلی قسم میں دانتوں کے داغ دور کرکے سفیدی کو بحال کیا جاتا ہے یا اصل شکل میں واپس لایا جاتا ہے جبکہ دوسری قسم میں قدرتی سے زیادہ سفیدی لانے کی کوشش کی جاتی ہے. اگر آپ بھی ایسا چاہتے ہیں تو ان آسان طریقوں کو فوری اپنالیں. دانتوں کی اچھی صفائی پہلے اور سب سے بڑھ کر دانتوں کی اچھی صفائی ہی انہیں زرد ہونے سے روک سکتی ہے، پلاک کا اجتماع دانتوں کی رنگت کو زردی مائل کردیتا ہے، تو برش کرنا، خلال اور ماﺅتھ واش کو کبھی نظرانداز مت کریں. اسی طرح وائٹننگ ٹوتھ پیسٹ بھی روزمرہ کے معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، اس حوالے سے ڈاکٹر سے مشورہ کرکے پیسٹ کا انتخاب کریں. بری عادتوں سے چھٹکارہ پلاک سے ہٹ کر دانتوں پر داغ یا اس کی اوپری سطح کے خاتم جو کہ سفیدی ختم کرتا ہے، وہ ہماری عام عادات ہیں، اگر آپ دانتوں کو سفید رکھنا چاہتے ہیں تو متعدد اشیاءکو خود سے دور رکھنا ہوگا، کافی، سافٹ ڈرنکس، پراسیس یا جنک فوڈ اور تمباکو نوشی وغیرہ. گھریلو ٹوٹکے تاہم آپ سیگریٹ یا پان وغیرہ کو خیرباد نہیں کہہ سکتے تو متعدد گھریلو ٹوٹکے ایسے ہیں جو مددگار ثابت ہوسکتے ہیں، جن میں سے کچھ بہت ہی غیرمعمولی ہیں، جیسے اسٹرابیری اور انناس کو کھانا بھی دانتوں کی سفیدی واپس لانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے. اس کے علاوہ بیکنگ سوڈا سے برش کرنا بھی کچھ عرصے میں دانتوں کی قدرتی سفیدی واپس لاسکتا ہے کیونکہ بیکنگ پاﺅڈر ریگ مال کی طرح کام کرکے بتدریج دانتوں کی سطح سے داغوں کو صاف کردیتا ہے. اس مقصد کے لیے ایک چائے کا چمچ بیکنگ پاﺅڈر دو چائے کے چمچ پانی میں ملائیں اور دانتوں پر اس پیسٹ سے ہر ہفتے کئی بار برش کریں. اسی طرح سیب کا سرکہ پانی میں ملا کر ماﺅتھ واش کے طور پر استعمال کرنا بھی حیران کن صفائی میں مدد دیتا ہے.

ایک اور طریقہ کار ناریل کے تیل کی کلیاں کرنا ہے جس سے پلاک کا اجتماع رک جاتا ہے. اس مقصد کے لیے ایک کھانے کا چمچ ناریل کا تیل کلی کے لیے لیں اور اس تیل کو پندرہ سے بیس منٹ تک منہ میں گھماتے رہیں، اس عمل کو روزانہ کرنے سے دانتوں کی سطح بھی متاثر نہیں ہوتی.کاسمیٹک ٹریٹمنٹ اگر کسی طریقہ کار سے کوئی فائدہ نہ ہو تو پھر کاسمیٹک ٹریٹمنٹ ہی موثر ثابت ہوتا ہے، وائٹننگ اسٹریپس اور جیل ٹرے وغیرہ نسبتاً سستا طریقہ علاج ہے جو کہ مسکراہٹ کی جگمگاہٹ بہت تیزی سے واپس لے آتا ہے. درحقیقت موتیوں جیسے چمکتے دانت تو آج کے دور میں خوبصورتی کے معمولات میں شامل ہوچکے ہیں جیسے بالوں کو رنگوانا وغیرہ.

..