بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مزید چار کشمیری نوجوان شہید‘کشمیری مشتعل جوابی کارروائی میں ایک میجر سمیت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی ہلاک،حالات بگڑ گئے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مزید چار کشمیری نوجوان شہید‘کشمیری مشتعل جوابی کارروائی میں ایک میجر سمیت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی ہلاک،حالات بگڑ گئے


سرینگر(قدرت روزنامہ)مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران آج ضلع بانڈی پورہ میں چار اور کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا.کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی قابض فوجیوں نے ان نوجوانوں کو ضلع میں گریزکے علاقے گووند میں تلاشی اور محاصرے کی ایک پر تشدد کا رروائی کے دوران شہید کیا .

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی

اس سے قبل اسی علاقے میں بھارتی فوج کی گشت پر مامور ایک ٹیم پر حملے میں ایک میجر سمیت چار فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے.آخری اطلاعات ملنے تک علاقے میں فوجی کارروائی جاری تھی .دریں اثناء مقبوضہ کشمیرمیں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل مشترکہ حریت قیادت نے کہا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ میں دفعہ 35. اے کی منسوخی کی غرض سے دائر عرضداشت کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کئے جانے کے باوجود جموں و کشمیر کے مستقل اور پشتینی باشندگی سے متعلق قانون سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاجی پروگرام جاری رہیگا. کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت رہنماؤں نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ سپریم کورٹ کی طرف سے سماعت چند ہفتوں کیلئے موخر کرنے سے عدالت کے ارادوں کاعندیہ ملتا ہے جس نے آر ایس ایس کی پشت پناہی والی ان درخواستوں کو سماعت کیلئے منظور کیا ہے اور آر ایس ایس کا کشمیر سے متعلق ایجنڈا جانا پہچانا ہے. انہوں نے کہا کہ وہ اس پورے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سماج کے تمام طبقوں بشمول تاجر برادری ، وکلا، سول سوسائٹی کے اراکین اور ٹرانسپوٹرزکیساتھ مشاورت کے بعد ایک متحدہ حکمت عملی وضع کرکے اس پر عمل کیا جائیگا. انہوں نے جموں و کشمیر کے مختلف خطوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف سے اس قانون کے تحفظ کیلئے مکمل اتحاد ، یکجہتی اور بلند حوصلے کے اظہار کا خیرمقدم کیاکیونکہ یہ قانون ہم سب کے بحثیت قوم کے بقاء کیلئے بنیادی اہمیت کا حامل ہے. حریت قائدین نے کہاکہ یہ قانون جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کیساتھ براہ راست وابستہ ہے کیونکہ کشمیری عوام کو ابھی تک انکا ناقابل تنسیخ حق، حق خودارادیت نہیں دیا گیا ہے جس کا وعدہ اقوام متحدہ نے ان سے کر رکھا ہے . انہوں نے کہا کہ اس ساز ش کا مقصد مقبوضہ علاقے میں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کر یہاں کے آبادی کے تناسب کے بگاڑناہے تاکہ تنازعہ کشمیر کی ہیت و حیثیت کو تبدیل کیا جاسکے.انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام نے یک زبان ہو کر بھار ت کو یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ان کیخلاف رچائی جارہی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دینگے.حریت رہنماؤں نے کہاکہ گذشتہ70 برس سے کشمیری عوام ان پر ٹھونسے گئے بھارت کیساتھ مشروط الحاق کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اوراب صورتحال یہ ہے کہ ہمارا وجود ہی خطرے میں پڑ گیا ہے اور ہم سب کو اسکے احتجاجی تحریک چلانی ہو گی .انہوں نے کہاکہ گذشتہ 70 برس سے جاری جارحیت کے خلاف غیور کشمیری عوام نے جس طرح مزاحمت کی اس بار بھی موجودہ جارحیت کے خلاف بھرپور مذاحمت کی جائیگی . انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام اورحریت قیادت اپنی شناخت اورکسی حتمی حل تک جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوششوں کے خلاف بھر پور مزاحمت کرینگے اور بھر پور سیاسی تحریک چلانے کیلئے تیار ہیں. انہوں نے کہ عوام اور خاص طورپر نوجوانوں کی تحریک آزادی کیلئے دی گئی قربانیاں بے مثال ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیاجاسکتا...

ضرور پڑھیں: ” اللہ آپ کی زبان مبارک کرے“صحافی نے نوازشریف سے کیا بات پوچھ لی کہ جواب میں انہوں نے یہ کہا ؟ حیران کن خبرآگئی