پی کے 23 میں خواتین کے 10فیصد سے کم ووٹ پول ہونے پر الیکشن کالعدم قرار - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

پی کے 23 میں خواتین کے 10فیصد سے کم ووٹ پول ہونے پر الیکشن کالعدم قرار


شانگلہ (قدرت روزنامہ) الیکشن کمیشن نے پی کے 23 شانگلہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا..

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

الیکشن کمیشن کی طرف سے پی کے23میں خواتین کے10فیصدسےکم ووٹ کاسٹ کرنےپرانتخابات کالعدم قرار دے دئیے گئے ہیں..الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشنحلقےمیں دوبارہ انتخابات کا شیڈول جلد جاری کرےگا.پی کے23 سے پی ٹی آئی امیدوارشوکت یوسفزئی کامیاب قرار ہوئے تھے.واضح رہے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقہ پی کے 23 شانگلہ I سے پاکستان تحریک انصاف کے شوکت علی 17 ہزار 399 ووٹ لے کر کامیاب قرار پائے تھے.الیکشن کمیشن کے غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے محمد رشاد خان 15 ہزار 533 ووٹ لے کر دوسرے جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے متوکل خان 13 ہزار 962 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے.ڈالے گئے ووٹوں کی شرح 34.82 فیصد رہی. تاہم اس حلقے میں خواتین کی طرف سے پول کیے گئے ووٹ کا تناسب 10فیصد سے کم تھا.ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جس حلقے میں خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی اس حلقے کےنتائج کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا.خواتین ووٹرز کا تناسب 10 فیصد ہونا لازمی ہے اگر کسی بھی حلقے میں 10 فیصد سے کم خواتین ووٹرز کی تعداد ہوئی تو اس حلقے کے نتائج کا کالعدم قرار دے دیا گیا.الیکشن کمیشن کے مطابق سیکشن 9 کے تحت خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی تو حلقہ کا نتیجہ کالعدم قرار دیا جائے گا. الیکشن کمیشن کے ضابط اخلاق کے مطابق خواتین کا حلقے میں 10فیصد ووٹ کاسٹ ہونا ضروری ہے نہیں تو اس حلقے میں الیکشن کمیشن انتخابات کو ملتوی کردیتا ہے.اور یہی وجہ ہے کہ آج پی کے 23میں الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے..الیکشن کمیشن نے پی کے 23 شانگلہ میں دوبارہ انتخابات کا حکم دے دیا. ..

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی