جمائما خان کا دلیرانہ اوردلبرانہ انداز جس نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

جمائما خان کا دلیرانہ اوردلبرانہ انداز جس نے پاکستانیوں کے دل جیت لئے


اسلام آباد(قدرت روزنامہ)اگر کوئی دیسی بزرگ اپنی زندگی کی پچاس پچپن بہاریں دیکھ لے تو اس کے بعد اگلی بہاریں اس کے لیے خزاں سے کم نہیں ہوتیں.پینسٹھ یا ستر سال سے زائد عمر کے بزرگ گھروں میں کھانس کھانس کر نہ صرف خود ہلکان ہورہے ہوتے ہیں بلکہ اپنی ’’زوجات‘‘ کو بھی خود سے بیزاری کا سنہری موقع فراہم کرتے ہیں.

ضرور پڑھیں: منرل واٹرکمپنیوں کےخلاف بھی نوٹس لوں گا،چیف جسٹس پاکستان کاسیمنٹ فیکٹریوں کو پانی فراہم کرنے والے تالاب بند کرنے کا حکم

اس عمر کے خاوندوں کی بیویاں عموماً ان کی صحت سے زیادہ اپنی بیوگی کے لیے دعا گو رہتی ہیں. اگر کوئی خاوند تمام عمر بیوی کے طعنے سن سن کر اپنے کانوں کو’’ تھوڑا اونچا سننے‘‘ کا عارضہ لگا بیٹھے تو اسے یکطرفہ طور پر کوسنوں سے نجات مل جاتی ہے. ایسے میں خدانخواستہ اگر میاں بیوی کے درمیان کہیں اختلافات پیدا ہوجائیں اور طلاق کے بنا چارہ نہ ہوتو کل کے جیون ساتھی مستقبل میں ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جاتے ہیں.اگر کسی طلاق یافتہ جوڑے کے بچے بھی ہوں توہمارے معاشرے میں تو وہ ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے پاس جانے کے بعد ان کی ایسی برین واشنگ کی جاتی ہے کہ وہ ماں یا باپ دونوں میں سے کسی ایک کواپنا دشمن سمجھنا شروع کردیتا ہے.اگر طلاق یافتہ بیوی کا بس چلے تو سابقہ شوہر کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی.اس کے بچوں کو اس کے خلاف ورغلانا تو اس کے بائیں ہاتھ کی بھی ’’چیچی‘‘ انگلی کا کھیل سمجھا جاتا ہے.طلاق یافتہ مشرقی عورت کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کا سابقہ خاوند، چاہےوہ اس کے بچوں کا باپ ہی کیوں نہ ہووہ کسی نہ کسی مصیبت میں پھنسا رہے. وہ اس کی بدنامی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی. سابقہ خاوند کے دشمن طلاق کے بعد اس کی نظر میں اس کے دوست بن جاتے ہیں کیونکہ نفسیاتی طور پر وہ اپنے سابقہ خاوند سے مکمل ناطہ توڑنے میں ناکام رہتے ہوئے اس سے نفرت کا ہی سہی ایک رشتہ یا تعلق لازمی قائم رکھتی ہے. اب دوسری طرف نظر دوڑائیں، مغربی عورت اس معاملے میں اتنی سنگدل واقع نہیں ہوئی.وہ طلاق کی صورت میں اگر ناطہ توڑتی ہے تو مکمل توڑ لیتی ہے.ایسا نہیں ہوگا کہ وہ طلاق کے باوجود سابقہ خاوند کو نقصان پہنچانے کے لیے جال بنتی رہے.اس کا سابقہ خاوند بھی ایسا ہی کرے گا.وہ دونوں اگر آپس میں ناطہ توڑتے ہیں تو مکمل توڑ لیتے ہیں.محبت اور نفرت کا تعلق ختم کرلیتے ہیں یا پھر اپنے تعلق کے خاتمے کو حقیقت کے طور پر قبول کرتے ہوئے ایک دوسرے کی بطور انسان عزت کرتے ہوئے اپنے کام سے کام رکھتے ہیں.مشرق اور مغرب کے اس فرق کو دیکھنا ہو تو ہمیں ایک ہی گھر سے اس کی دونوں مثالیں مل سکتی ہیں. وہ گھر سربراہ تحریک انصاف عمران خان کا گھر ہے.ان کی پہلی بیوی جمائمہ گولڈ سمتھ مغربی عورت تھی جبکہ دوسری بیوی ریحام خان مغرب سے ہوکرآنے کے باوجود ایک مشرقی خاتون تھیں.عمران خان نے دونوں کو طلاق دی لیکن دونوں بیویوں کے ردعمل اور بعد از طلاق عمران خان کے بارے میں ان کے جذبات اور رائے میں زمین آسمان کا فرق ہے.ایک کے لیے عمران خان کے دوست آج بھی دوست اوران کے دشمن آج بھی دشمن ہیں جبکہ دوسری کے لیے سابقہ خاوند کے مخالفین دوست کی حیثیت رکھتے ہیں.عمران خان جب بھی کسی مشکل میں پھنسے تو جمائمہ انہیں مشکل سے نجات دلانے کے لیے تیار نظرآئی.ابھی بنی گالہ کی جائیداد کا کیس سپریم کورٹ میں پہنچا تو عمران خان مخالفین کے تیروں کی بوچھاڑ میں گھر گئے لیکن جمائما نے پندرہ سال پرانی بینک سٹیٹمنٹ تلاش کرنے میں کامیابی کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کی مشکل آسان کرنے میں اہم ترین کردار ادا کیا. اب اگر ہم اپنے معاشرے پر نگاہ ڈالیں تو طلاق یافتہ خاتون کا اپنے سابقہ شوہر کے ساتھ یہ حسن سلوک ممکن نظر نہیں آتا.شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ عمران خان آج بھی جمائمہ کی نظر میں ایک محبوب ہستی ہویا پھر اپنےبچوں کےباپ کے طور پروہ ان کی خیر خواہ ہو لیکن یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ مغربی خواتین بچھڑنے کے بعد نفرت یا انتقام کا نیا رشتہ پیدا نہیں کرتیں...

ضرور پڑھیں: ’’ سابق کرکٹرز کی عمران خان سے ملاقات لیکن کسی کو بھی ہمت نہ ہوئی کہ ۔ ۔ ۔‘‘ نجی ٹی وی چینل کا ایسا دعویٰ کہ شائقین کرکٹ کی حیرت کی انتہاء نہ رہے گی