کمپنی ایگزیٹو کی ماہانہ تنخواہ 14لاکھ ، منظورنظر خاتون کی ماہانہ تنخواہ 9لاکھ، کمپنی کا سپر وائزر میٹرک فیل شخص ۔۔ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

کمپنی ایگزیٹو کی ماہانہ تنخواہ 14لاکھ ، منظورنظر خاتون کی ماہانہ تنخواہ 9لاکھ، کمپنی کا سپر وائزر میٹرک فیل شخص ۔۔


اسلام آباد((قدرت روزنامہ) شہباز شریف نے صوبے میں اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے فروغ لاہور میں 107ارب روپے مالیت کا لاہور نالج پارک کمپنی بنائی تھی لیکن کمپنی کے افسران نے اصل مقاصد کی بجائے ذاتی تجوریاں بھر کر منصوبہ کو ناکام بنا دیا ہے تاہم بھاری مالی بد عنوانیوں اور کرپشن کے باعث نیب حکام نے کمپنی افسران کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات شروع کر دی ہیں جس کے نتیجہ میں متعدد مالی فوائد حاصل کرنے والوں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں. تحقیقات کی روشنی میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور نالج پارک کمپنی کی802ایکڑ زمین میں سے ساڑھے تین ایکر پر مقامی ہاؤسنگ سوسائٹی نے قبضہ کر لیا ہے.

ضرور پڑھیں: حنیف عباسی ایک بار پھر جیل میں بیمار پڑ گئے

یہ زمین بیدیاں روڈ لاہور پر واقع ہے جس کی مالیت اربوں روپے ہے. تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر زبیر اقبال غوری نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری محمد رشید کو ماہانہ 2لاکھ 50ہزار تنخواہ دیتے رہے ہیں تاہم ان کی ڈگریاں بھی جعلی ثابت ہوئی ہیں ،ان سے ریکوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے. کمپنی کے سی ای او نے شہباز شریف کی منظور نظر خاتون مس مہوش رفیع کو ماہانہ 9لاکھ روپے کی تنخواہ پر چیف کمرشل آفیسر بھرتی کیا گیا تھا جبکہ اسی خاتون کی تعیناتی اور تنخواہ کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے. کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عبدالرزاق، چیف فنانشل آفیسر عبدالجلیل ، یاسر فرید ملک وغیرہ کو غیر قانونی طریقہ سے 7کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئی تھیں ان افسران نے اپنی تنخواہیں 2لاکھ 80ہزار سے لے کر14لاکھ تک وصول کرتے رہے ہیں. سرکاری دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری شاہد زمان سرکاری گھر میں رہنے کے باوجود حکومت سے 2لاکھ 40ہزار بطور ہاؤس رینٹ بھی وصول کرتے رہے جبکہ سرکاری تنخواہ کے ساتھ ساتھ کمپنی سے ماہانہ8لاکھ روپے تنخواہ وصول کرتے رہے ہیں اب ان سے لوٹی قومی دولت واپس لینے کی ہدایت کی گئی ہے. دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ٹریل اے فلم اینڈ ڈیجیٹل انٹرٹینمنٹ کے مالک علی مرتضیٰ کو غیر قانونی طریقہ سے 24لاکھ روپے ادا کئے گئے جس کی ریکوری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ افسران نے ایک ایڈورٹائزنگ کمپنی بلٹر کو بھی غیر قانونی طریقہ سے 2کروڑ 37لاکھ ادا کر رہے ہیں. جس کی ریکوری کو یقینی بنایا جائے گا. دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ شہباز شریف لاہور نالج کمپنی کا سپروائزر منظور علی کو بنا دیا جو کہ مڈل پاس تھا اور اس کو تنخواہ بھی ماہانہ65ہزار روپے ادا ہوتی رہی ہے. شہباز شریف نے اعلیٰ تعلیم کے فروغکے لئے قائم کی گئی کمپنی میں ڈپٹی منیجر پروکیورمنٹ کے عہدوں پر ایم بی اے امیدواروں کو نظر انداز کر کے 64سالہ ایف اے پاس مختار احمد کو بھرتی کر دیا تھا جس کو ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کا پیکج دیا گیا . کمپنی میں ملازمین کو بھرتی کرنے کا ٹھیکہ اسلام آباد کی ایک کمپنی کو جیلنٹ سولوشن کو دیا گیا تھا جس کو23لاکھ 30ہزار روپے کی ادائیگیاں بھی کی گئی تھیں. شہباز شریف نے لاہور نالج کمپنی کے معاملات چلانے کے لئے بورڈ آف ڈائریکٹر قائم کیا جس کا چیئر مین جنرل محمد اکرم تھے ممبران میں سابق صوبائی وزیراعلیٰ تعلیم سید رضا علی گیلانی،، کامران شمس، جہانزیب حامد یعقوب، بیرسٹر نبیل وغیرہ تھے نیب حکام نے ان سے بھی قومی دولت کی لوٹ مار کرنے پر باز پرس کرنے کا فیصلہ کیا ہے...

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ مناسک حج کی ادائیگی کیساتھ خانہ کعبہ کا ایسا منظر جس نے دیکھادیکھتا ہی رہ گیا

مزید خبریں :