گاڑی منگواؤ ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے یہاں پاکستان کے دشمن بیٹھے ہیں - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

گاڑی منگواؤ ہمیں فوراً یہاں سے نکلنا ہے یہاں پاکستان کے دشمن بیٹھے ہیں


اسلام آباد (قدرت روزنامہ)میں اپنی بیگم اور بچوں کے ساتھ دبئی ہوٹل کی طرف آ رہا تھا کہ مجھے اس افسوس ناک سانحے کی اطلاع ملی. میرے ساتھ پاکستانی ڈرائیور بھائی بھی یہ خبر سن کر بہت پریشان ہو رہا تھا.

ضرور پڑھیں: تمام مسلمان کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں’’ لاالٰہ اللہ محمد رسول اللہ ‘‘ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ آقا کریم ﷺ کس طرح کلمہ طیبہ پڑھا کرتے تھے ؟

یہ اوائل 2000ءکی بات ہے. شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پیپلزپارٹی بلوچستان کی تنظیم سازی نامور کالم نگار مطلوب وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں... اور مسائل کے حل کیلئے ایک تین رکنی کمیٹی تشکیل دی. سینیٹر ڈاکٹرجہانگیر بدر (مرحوم) عبدالقادر شاہین اور راقم کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی کہ انہی دنوں نواب اکبر بگٹی (مرحوم) کے بیٹوں سے انکے باپ کی وفات پر تعزیت کی جائے. کوئٹہ ایئرپورٹ سے ہمیں پیپلزپارٹی بلوچستان کی قیادت نے ریلی کی شکل میں ساروان ہاؤس پہنچایا. یاد رہے میر لشکری رئیسانی ان دنوں پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر تھے یوں ہمیں نواب آف ساروان فیملی کی مہمانداری سے لطف اندوز ہونے کا موقع ملا. رئیسانی خاندان کی جمہوریت اور پاکستان کیلئے بے شمار خدمات ہیں. اس سے پہلے نواب غوث بخش رئیسانی کو بھی پاکستان سے محبت کی وجہ سے شہید کر دیا گیا تھا.ابھی چند سال پہلے شہید سراج رئیسانی کے بڑے بیٹے کو مستونگ میں ایک فٹ بال میچ کے دوران خودکش دھماکہ کرکے شہید کر دیا گیا تھا ،اس طرح شہید سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد یہ خاندان پاکستان سے محبت کے جرم میں شہادتوں کی ہیٹرک مکمل کر چکا ہے. اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ابھی چند سالوں سے نواب سراج رئیسانی نے مٹھی بھر شرپسندوں اور بھارت نواز نام نہاد سرداروں کاناطقہ بند کر رکھا تھا اور کچھ پاکستان دشمن ٹِڈی دل دشمن بلوچستان کے پہاڑوں سے بھاگ کر سوئٹزرلینڈ، بھارت اور متحدہ عرب امارات میں پناہ گزیں ہیں. خاص طور پر مری، بزنجو اور بگٹی سردار پاکستان سے دشمنی کی کدورت رکھتے ہوئے پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں.قارئین!یہ اوائل 2000ءکی بات ہے محترمہ شہید بی بی اور میں دوبئی کے حاکم شیخ محمد کی دعوت پر انکے پیلس پہنچے ابھی عشائیہ شروع بھی نہ ہوا تھا کہ محترمہ نے مجھے کہا کہ ڈرائیور کو بلاؤ کہ گاڑی لیکر آئے ہمیں یہاں مزید نہیں رکنا. جب واپسی میں ،میں نے محترمہ سے اس طرح عشائیہ چھوڑ کر آنے کی وجہ پوچھی تو محترمہ نے جواب دیا کہ کیا تمہیںوہاں بیٹھے پاکستان دشمن نواب مری کے بیٹے نظر نہیں آئے؟ قارئین! یہ کوئی آج کی بات نہیں ہمارے بعض برادر اسلامی دوست ممالک ہی دراصل ہمارے پیارے وطن کی جڑیں کاٹ رہے ہیں. دراصل جب سے گوادر منصوبے کا اعلان ہوا تو پاکستان کے دوستوں اور دشمنوں میں سراسیمگی پھیل گئی انہیں ترقی کرتا پاکستان ایک آنکھ نہ بھایا اور انہوں نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے سب سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو شہید پر وار کیا اور انہیں راستے سے ہٹا دیا، جس بھٹو نے عالم اسلام کو ایک سٹیج پر اکٹھا کیا تھا.ہمارے بعض برادر اسلامی ممالک نہیں چاہتے تھے کہ ان کی موجودگی میں پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک لیڈرشپ اپنے ہاتھ میں لے ،خاص طور پر جب سے سی پیک منصوبے کا باقاعدہ آغاز ہوا ہے تب سے بھارت سے زیادہ ہمارے مسلم دوستوں کو یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ گوادر اپنے حدود اربعہ اور محل وقوع کی وجہ سے جلد ہی خطے میں مرکزی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیگا اور جس دن پاکستان کے چین کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط ہوئےاسی دن دوست مسلم ملک کے وزیر دفاع نے پاکستان مخالف بیان دے کر اپنی نیت کو واضح کر دیا اور جس دن اس منصوبے کا باقاعدہ آغاز کیا تو اس ملک کی حکومت نے بھارتی وزیراعظم کو دورے کی دعوت دی اور بابری مسجد کو شہید کرنیوالے نریندر مودی کے ہاتھوں اسی ملک میں پہلے شیوا مندر کی بنیاد رکھی گئی اور جن دنوں پاکستان کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب فوج بھجوانے کی قرارداد منظور کی اس دن سے لیکر اب تک ان دوست ملکوں سے لاکھوں پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے اور خاص طور پر جس دن سےہماری بہادر پاک فوج اور آئی ایس آئی نے کلبھوشن کو گرفتار کرکے دشمن کی گردن پر ہاتھ ڈالے ،تب سے پاکستان کے دوست اور دشمن میں پہچان کرنا آسان ہو گیا ہے. کلبھوشن جس کا بہت بڑا نیٹ ورک بلوچستان کے شرپسندوں کو مالی اور تنظیمی سپورٹ مہیا کر رہا تھا. شواہد کیمطابق اس کا ہیڈ کوارٹر ساحلی شہر بندرعباس میں تھا ایران، متحدہ عرب امارات اور افغانستان تینوں آپس میں اچھے دوست نہیں رہے مگر جب بات پاکستان کی آتی ہے تو یہ تینوں برادر اسلامی ملک اپنی رنجشیں بھلا کر متحد ہو جاتے ہیں. پچھلے ایک ہفتے کے دوران ہونیوالے تین بم دھماکوں اور اس کے نتیجے میں شہید ہونےوالے افراد کی تعداد تین سو تک جا پہنچتی ہے جبکہ دوسو کے قریب زخمی ساری مر کیلئے اپاہج بن کرہسپتالوں میں زیر علاج پڑے ہیںجبکہ ہمارے بعض برادر اسلامی ممالک پاکستان کی مخالفت اقوام متحدہ سمیت ہر عالمی فورم پر کرتے ہیں لیکن عجب آزاد قلندر ہیں پاکستان کے پالیسی ساز اور سیاست دان جن کی زبانیں اسلامی امہ کہہ کہہ کر تھک گئی ہیں جبکہ پاکستان نے ہر عالمی پلیٹ فارم پر فلسطین اور جہاں کہیں بھی مسلم ممالک کو پریشانی لاحق ہوئی ان کی مدد کی ہےاور اسی مدد کے نتیجے میں آج اسرائیل جس کی سرحدیں پاکستان سے نہیں عربوں سے ملتی ہیں وہ ہمارا سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے.قارئین! پریشان حال جھورا جہاز میرے پاس بیٹھا رو رہا ہے اور مجھ سے بار بار یہ پوچھ رہا ہے کہ سولجر آف پاکستان کا اعزاز پانے والے سراج رئیسانی شہید کی روح کو آرام تب پہنچے گا جب ہم سینکڑوں بلوچ پاکستانیوں کے قاتل کلبھوشن کو تختہ دار پر پہنچائیں گے. جی ہاں قارئین ! اب ہمیں دنیا بھراور یورپ کی پروا نہیں کرنی چاہیے ہمیں عالمی عدالت انصاف کی بھی پروا نہیں کرنی چاہیے کیونکہ جب دہشتگرد پاکستان میں بم دھماکوں میں خون کی ندیاں بہا دیتے ہیں ،جب دہشتگرد ہنستے بستے گھرانوں کو پل بھر میں اجاڑ دیتے ہیں، جب دہشت گرد ہزاروں بچوں کو یتیم کر چکے ہیں اور جب دہشت گرد پاکستان کی معیشت اور وقار کو نقصان پہنچا رہے ہیں ،تو اس وقت دنیا بھر کا درد اپنے جگر میں رکھنے والی عالمی عدالت انصاف کہاں سوئی پڑی ہے؟وہ عالمی عدالت انصاف انسانیت کے مجرموں اور قاتلوں کو سزا کیوں نہیںدلواتی؟ ہمارے تینوں برادر اسلامی ممالک ، بھارت اور دنیا بھر کی دو درجن سے زائد انٹیلی جنس ایجنسیوں نے پاکستان کےچاروں اطراف سرحدوں اور مملکت عزیز کے اندر غیر اعلانیہ جنگ شروع کر رکھی ہے. پاکستان تاریخ کے سب سے نازک دور سے گزر رہا ہے. ستر سالوں سے پاکستان کا خون جونک کی طرح چوسنے والے کرپٹ سیاست دان، بیوروکریٹس اور کرپٹ ججز اور جرنیلوں نے پاکستان کی اساس کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہیں مگر معروضی حالات میں بھی پاکستان کا فخر ،پاکستان کی آن، ہماری پاک فوج اور آئی ایس آئی نے ہمارا بھرم قائم رکھا ہوا ہے.ایک طرف خیبرپختونخوا میں بلور خاندان نے شہادتیں دے کر تاریخ رقم کی ہے تو دوسری طرف نواب غوث بخش رئیسانی نے بیٹے اور پوتے سمیت شہادتیں دے کر بلوچوں کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے. مجھے فخر ہے کہ میرا مضبوط دوستی کا تعلق شہیدوں کے اس خاندان سے ہے. چیف آف آرمی سٹاف کی طرفسے سولجر آف پاکستان کا خطاب فقط کافی نہیں بلکہ شہید سراج رئیسانی کو پاکستان کی جنگ لڑنے پر نشانِ حیدر دیا جانا چاہیے.قارئین!الیکشن کا دور دورہ ہے میاں نوازشریف صاحب اور ان کی صاحبزادی مریم نوازکو ان کے خاوند کیپٹن صفدر سمیت جیل بھیجا جا چکا ہے. اس طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہیدوں کے لواحقین کو کچھ تو صبر ملا ہوگا مگر پاکستان عوامی تحریک کی مرکزی قیادت کوئی مربوط لائحہ عمل نہ تیار کر سکی اور آج ملک بھر میں انکے ووٹرزٹوٹی تسبیح کے دانوں کی طرح بکھرے پڑے ہیں اور قائد تحریک لٹریسی اور ادبی کام چھوڑیں تو سیاست چلتی ہے مگر پھر تحقیقی اور نصابی کام کون کرے گا. بہرحال پاکستان عوامی تحریک کو اس الیکشن کے نتائج کا ادراک جب ہوگا تب تک بہت دیر ہو چکی ہو گی...

ضرور پڑھیں: صدارتی انتخاب : اب بھی بڑا اپ سیٹ ہو سکتا ہے ، اگر یہ ایک کام ہو گیا تو تحریک انصاف کو شکست ہو جائے گی ۔۔۔نامور صحافی نے پیشگوئی کردی

مزید خبریں :