’’ مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل نے بڑے چینلز کو اپنا غلام بنا رکھا تھا،بولنے پر غیر اعلانیہ پابندیاں لگا دی جاتیں۔۔۔‘‘ میں نے آواز اٹھائی تو اس سوشل میڈیا سیل نے میرے ساتھ کیا کیا؟ حامد میر نے تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

’’ مریم نواز کے سوشل میڈیا سیل نے بڑے چینلز کو اپنا غلام بنا رکھا تھا،بولنے پر غیر اعلانیہ پابندیاں لگا دی جاتیں۔۔۔‘‘ میں نے آواز اٹھائی تو اس سوشل میڈیا سیل نے میرے ساتھ کیا کیا؟ حامد میر نے تہلکہ خیز انکشافات کر ڈالے


لاہور(قدرت روزنامہ) حامد میر کا کہنا ہے کہ دو سال قبل پاناما اسکینڈل آیا تو نواز شریف اپنے آپ کو ناقابل تسخیر سمجھ رہے تھے.عمران خان کا دھرنا ختم ہو چکا تھا اور مریم نواز وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھ کر ایک میڈیا سیل چلا رہی تھیں.

ضرور پڑھیں: گیسٹ ہائوس میں بھارتی خاتون کو 40 افراد چار روز تک ریپ کا نشانہ بناتے رہے

اس میڈیا سیل نے پاکستان کے بڑے بڑے ٹی وی چینلز کو اپنا غلام بنا رکھا تھا اور جو صحافی یا اینکر مریم نواز کی غلامی سے انکار کر دیتا تھا تو اسے ملکہ عالیہ کے سامنے انکار کی پاداش میں غیر اعلانیہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا.تفصیلات کے مطابق حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ لندن میں حسین نواز کے گھر پر ان کے کچھ ہم وطنوں کے حملے کی خبر سن کر مجھے کچھ اندیشہ ہائے دور دراز کچھ مزید قریب ہوتا نظر آتا ہے. جب سے پچیس جولائی کے الیکشن کو ملتوی کرنے کی دھمکی نے دم توڑا ہے کچھ لوگ بوکھلاہٹ میں ایسی حرکتیں کر رہے ہیں، جن سے کسی اور کی نہیں بلکہ پاکستان اور پاکستانیوں کی بدنامی ہو رہی ہے.پاکستان تحریک انصاف اور ان کے کچھ مدد گار 25 جولائی کے الیکشن نہیں چاہتے تھے.وہ انتخابات کو اکتوبر یا نومبر تک ملتوی کرانے کے حامی تھے لیکن چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کر دیا کہ آئین میں الیکشن کے التواء کی گنجائش نہیں.دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے الیکشن ملتوی کرنے کی کسی بھی مہم کا حصہ بننے سے انکار کر دیا تھا. پیپلز پارٹی سے کہا گیا تھا کہ جب بھی نئی حکومت بنے گی آپ کو حکومت میں شامل کیا جائے گا، لیکن پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنانے کے گناہ بے لذت سے معذرت کر لی، جس کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف گھیرا تنگ ہونے

لگا.جب زرداری صاحب کے قریبی ساتھیوں کی گرفتاریاں شروع ہوئیں تو تحریک انصاف کے چند رہنماؤں نے مجھ سے کہا کہ پچیس جولائی کے بعد ہمارے ساتھ بھی وہی ہو سکتا ہے، جو آصف زرداری کے ساتھ ہوا ہے کیونکہ ہمارے لیڈر عمران خان کو ’یس سر‘ کہنے کی عادت نہیں. یس سر تو کوئی جیپ سوار ہی کہہ سکتا ہے اس لیے ہمیں محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہیں ایسے حالات پیدا نہ ہو جائیں کہ 25 جولائی کے بعد ہم ایک دوسرے کو یہ کہتے نظر آئیں کہ یہ قوم جمہوریت کے قابل نہیں.حسین نواز کے گھر پر حملہ لندن میں ہوا ہے لیکن یہ اُس مائنڈ سیٹ کا ترجمان ہے، جو پاکستان کی سیاست پر ہر جائز و ناجائز طریقے سے غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہے.اس حملے کے بعد مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے حامیوں نے ایک دوسرے کے خلاف سوشل میڈیا پر جو زبان استعمال کی، اسے پڑھ کر مجھے وہ کچھ یاد آ گیا، جو کچھ دن پہلے کراچی کے منتخب میئر وسیم اختر نے مجھے گوجر نالے کے علاقے میں دکھایا تھا.یاد رہے کہ کچرا صرف کراچی میں نہیں ہے.لاہور بھی کچرے سے بھرا ہوا ہے. اندرون لاہور اور نابہ روڈ سے ملحقہ علاقوں میں تو اس قدر کچرا اور بدبو ہے کہ گزشتہ ہفتے مجھے ان علاقوں میں ابکائیاں آنے لگیں اور رہی سہی کسر پشاور میں پوری ہو گئی.پشاور میں رحمان بابا کے مزار کے اردگرد گنجان آباد علاقوں میں کچرے کے ڈھیر دیکھ کر مجھے عمران خان پر غصہ نہیں بلکہ ہنسی آئی. جس طرح لاہور کی ضلعی حکومت بدستور (ن) لیگ کے پاس ہے اُسی طرح پشاور کی ضلعی حکومت بھی بدستور تحریک انصاف کے پاس ہےلیکن ان دونوں کی کارکردگی کراچی میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم والوں سے مختلف نہیں.لاہور اور پشاور والوں نے صرف اپنی غریب اور متوسط آبادیوں میں نہیں بلکہ اپنی سوچ کے چوکوں اور چوراہوں پر بھی کچرا پھیلا رکھا ہے، جو سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے.جس طرح کراچی کے کچرے کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے، اُسی طرح لاہور کے کچرے کی ذمہ داری مسلم لیگ (ن) اور پشاور کے کچرے کی ذمہ داری تحریک انصاف ہے. لیکن ایک کچرا وہ بھی ہے، جو ہماری سوچ میں پھیل چکا ہے.یہ کچرا غریب اور متوسط بستیوں میں نہیں بلکہ اس طبقے کی سوچ میں نظر آتا ہے، جن کے ہاتھوں میں مہنگے آئی فون دکھائی دیتے ہیں. اس طبقے نے دو سال پہلے بھی لندن میں حسین نواز اور جمائما کے گھروں کے سامنے مظاہرے کیے اور اب تو حسین نواز کے گھر پر حملہ ہی کر دیا.کیا حسین نواز کے گھر کے سامنے گالم گلوچ اور غنڈہ گردی کرنے والوں کو پاکستان کے غریب اور مظلوم عوام کا نمائندہ کہا جا سکتا ہے؟ بالکل نہیں. یہ غنڈہ گردی کرنے والے جہانگیر ترین اور علیم خان کے نمائندے ہو سکتے ہیں.فردوس عاشق اعوان اور نذر گوندل کے نمائندے ہو سکتے ہیں. مصطفٰی کھر اور لیاقت جتوئی کے نمائندے ہو سکتے ہیں لیکن کسی غریب اور مظلوم کے نمائندے نہیں ہو سکتے. صاف نظر آ رہا ہے کہ حسین نواز کے گھر پر حملہ ویسی ہی حرکت ہے جیسی حرکت کچھ دن پہلے کراچی میں بلاول بھٹو زرداری پر پتھراؤ کی صورت میں کی گئی تھی.کچھ ذمہ دار لوگوں کا کہنا ہے کہ لیاری میں بلاول پر ہونے والے پتھراؤ میں کوئی ریاستی ادارہ ملوث نہیں ہے لیکن عام تاثر یہی ہےکہ 25 جولائی کے زور زبردستی کے ذریعے مسلم لیگ (ن) سے پنجاب اور پیپلز پارٹی سے سندھ چھیننے کی کوشش ہو گی.

..

ضرور پڑھیں: 17ویں ہی میچ میں ڈبل سنچری ،فخر سب کو پیچھے چھوڑ گئے

مزید خبریں :

آسمان کی آفتیں

آسمان کی آفتیں

(18:01) جولائی 21, 2018