ایکشن فلموں کے سُپر سٹار ہیروسلطان راہی کی وہ حیران کن عادتیں جو ان کے مداحوں کویہ کہنے پر مجبور کردیں گی کہ اتنا بڑا مالدار اورجنگجو ہیرو اور یہ کام ؟وہ کیا کرتے تھے،آپ بھی جانئے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

ایکشن فلموں کے سُپر سٹار ہیروسلطان راہی کی وہ حیران کن عادتیں جو ان کے مداحوں کویہ کہنے پر مجبور کردیں گی کہ اتنا بڑا مالدار اورجنگجو ہیرو اور یہ کام ؟وہ کیا کرتے تھے،آپ بھی جانئے


لاہور (قدرت روزنامہ)پنجابی فلموں کے سُپر سٹار اور جنگجو ہیرو سلطان راہی کو سکرین پر دیکھنے والے مولا جٹ کے نام سے بھی یاد کرتے ہیں،حالانکہ پوری فلم انڈسٹری انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکارتی تھی.ان کا نام ہی فلم کے ہٹ ہونے کی ضمانت تھا .

اب شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ سلطان راہی وہ واحد ہیرو تھے جنہوں نے ذرّے سے آفتاب کا سفر انتہائی مشکل ترین حالات میں کیا.فلموں میں چپڑاسی،نوکر ،باپ ،مزدور،بھائی کا مختصر ترین کردارکرتے ہوئے وہ سپر سٹار بن گئے .ان کی زندگی سے پاکستانی فلم انڈسٹری زندہ تھی ،ان کا 9 جنوری 1996قتل کیا ہوا کہ یہ انڈسٹری بھی دم توڑ گئی،گویا سلطان راہی کے دم سے فلمی صنعت کی سانسیں بندھی ہوئی تھی.پاکستان کی سینما انڈسٹری کی ناگزیر ضرورت بننے والے سپر سٹار ہیرو کا نام گینز بک آف ورلڈ میں بھی نام درج ہے.چالیس سال تک راج کرنے والے سلطان آف لالی ووڈ نے 700 پنجابی اور اردو فلموں میں کام کیاتھا .  مجھے یا دہے شاہ نور میں کئی بار ان سے ملاقات ہوئی تو ہم بھی دوسروں کی طرح انہیں حاجی صاحب کہہ کر پکارتے تھے ،کئی بار ان کی اقتدا میں نماز پڑھی،وہ نماز کے پابند تھے ،ان تھک اور دن رات شوٹنگز میں مصروف رہنے والے سلطان راہی کو نیند عاجز نہیں کرپاتی تھی. جہاں تک مجھے معلوم ہوسکا ہے ،ان جیسے کام کی روٹین کسی اور اداکار کا معمول نہیں بن سکی.وقت کے پابند تھے اور شوٹنگ کے دوران جب وقفہ آتا تو پندرہ منٹ کے لئے وہ قیلولہ کرتے تھے اور اسکے بعد جب اٹھتے تو وضو کرنے کے بعد وہ تروتا زہ نظر آتے تھے.ان کی نیند قیلولوں سے پوری ہوجاتی تھی .ایک دن انٹرویو کے دوران میں نے پوچھا کہ آپ سوتے کب ہیں ؟ وہ ہنسے اور کہا کہ سوال یہ کریں کہ آپ سوتے کیوں نہیں .کہنے لگے کہ کام میرا عشق ہے اور نماز میرا فرض .میں نماز قصر نہیں کرتا اور سونے کا وقت ہوتو کام موخر نہیں کرتا. اپنے وقت کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے ہیرو سلطان راہی کی ذاتی زندگی بالکل سادہ تھی .وہ زمین پر چادر بچھا کر کھانا کھاتے تھے .سیٹ اور گھر میں بھی وہ دستر خوان زمین پر بچھاتے تھے.حتٰی کہ سوتے بھی زمین پر تھے .اس پر ان کا کہنا تھا کہ بے شک اللہ نے مجھے میری اوقات سے زیادہ دیا ہے لیکن میری اوقات یہی ہے . زمین اور چٹائی سے مجھے پیار ہے،جو سکون چٹائی اور زمین پر سونے میں ہے وہ آرام مجھے نرم گدوں والے بستر پر نہیں ملتا .

..

مزید خبریں :

سروے