عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ’پیر‘ تو آپ نے دیکھے ہوں گے لیکن اب یہ ’بابا‘ مردوں کے ساتھ ایسا شرمناک ترین کام کرتے پکڑا گیا کہ ہر کسی کا رنگ لال ہوجائے - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

عورتوں کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے ’پیر‘ تو آپ نے دیکھے ہوں گے لیکن اب یہ ’بابا‘ مردوں کے ساتھ ایسا شرمناک ترین کام کرتے پکڑا گیا کہ ہر کسی کا رنگ لال ہوجائے


اورنگ آباد(قدرت روزنامہ) جعلی پیروں اور فراڈئیے عاملوں کی ہوس کا نشانہ بننے والی خواتین کی خبریں تو آئے روز سامنے آتی ہیں لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان شعبدہ بازوں کے پاس جانے والے مرد اپنی عزت بچا کر واپس آتے ہیں تو ایسا بالکل نہیں ہے. یہ ضرور ممکن ہے کہ عزت لٹوانے والے مرد شرم کے مارے کبھی سامنے نا آتے ہوں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ جعلی پیر مردوں کو بھی کچھ کم نشانہ نہیں بنا رہے.

ضرور پڑھیں: حنیف عباسی ایک بار پھر جیل میں بیمار پڑ گئے

اگر آپ کو یقین نا آئے تو بھارت میں پکڑے جانے والے اس جعلی بابے کے کرتوت ضرور جان لیجئے جو گزشتہ 10 سال سے اپنے پاس آنے والے نوجوانوں کی عزت لوٹ رہا تھا.ٹائمز آف انڈیا کے مطابق آصف نوری نامی یہ بدبخت شخص لڑکوں میں خاص دلچسپی رکھتا تھا اور اسی لئے اس کے چیلوں نے یہ مشہور کر رکھا تھا کہ اس کے پاس آنے والے نوجوانوں کبھی مایوس نہیں لوٹتے. بڑی تعداد میں نوجوان لڑکے عشق و محبت کے معاملات میں من کی مراد پانے کے لئے اس کے پاس آتے تھے لیکن عزت گنوا کر خاموشی سے واپس جانے پر مجبور ہو جاتے تھے.اس شیطان صفت شخص کے کرتوتوں کی خبر پولیس کو ملی تو اس کے خلاف ایک خفیہ آپریشن کیا گیا. تحقیق کے دوران پتا چلا کہ یہ اپنے پا س آنے والے نوجوانوں کو عملیات کے بہانے ایک الگ کمرے میں لے جاتا تھا جہاں انہیں ایک نشہ آور مشروب پلا کر ان کی عصمت دری کرتا تھا. اکثر اوقات اس کے خاص چیلے بھی اس بے حیائی میں حصہ دار ہوتے تھے اور اس بھیانک فعل کی ویڈیو بھی بنا لی جاتی تھی. بہت سے نوجوان ایسے تھے جنہیں ان کی ویڈیو دکھا کر بلیک میل کیا گیا اور بار بار ان کی عصمت دری کی گئی. اس شیطان کا نشانہ بننے والے نوجوانوں کی اصل تعداد کے بارے میں ابھی تک کوئی اندازہ قائم نہیں کیا جا سکا. بدبخت ملزم اب پولیس کی حراست میں ہے اور اس کے خلاف قانونی کاروائی جاری ہے...

ضرور پڑھیں: سبحان اللہ مناسک حج کی ادائیگی کیساتھ خانہ کعبہ کا ایسا منظر جس نے دیکھادیکھتا ہی رہ گیا

مزید خبریں :