لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے لیکن شکر ہے کہ اس وقت۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے لوڈشیڈنگ کا وہ فائدہ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

لڑکے والے مجھے دیکھنے آئے لیکن شکر ہے کہ اس وقت۔۔۔‘ پاکستانی لڑکی نے لوڈشیڈنگ کا وہ فائدہ


اسلام آباد (قدرت روزنامہ) لوڈشیڈنگ کے نقصانات تو بے شمار ہیں لیکن کیا اس کا کوئی فائدہ بھی ہے؟ جی بالکل، کم از کم اس لڑکی کے لئے تو ضرور ہے جسے لوڈشیڈنگ نے رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والی ناپسندیدہ فیملی سے بچا لیا. ویب سائٹ ’پڑھ لو‘ پر اپنی زندگی کا یہ دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے اس نے لڑکی نے بتایا ہے کہ ”جب وہ لوگ مجھے دیکھنے آئے تو لوڈشیڈنگ کی وجہ سے ہمارے گھر میں اندھیرا تھا کیونکہ ہمارا یوپی ایس بھی جواب دے چکا تھا. ہم ان لوگوں میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے تھے تو ایسے میں یہ ہمارے حق میں بہت ہی اچھا ثابت ہوا. وہ جتنی دیر بیٹھے مجھے دیکھنے سے قاصر رہے. جیسے ہی وہ اٹھ کر گئے بتی بھی آ گئی. ہم نے اسے قدرت کی جانب سے اس بات کا اشارہ سمجھا کہ وہ لوگ ہمارے لئے موزوں نہیں تھے. “ سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی لڑکیاں جیسے ہی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہیں ان کے رشتے کی باتیں بہت زور پکڑ جاتی ہیں. شاید ہی کوئی لڑکی ہو جسے اس عمر میں رشتے والی آنٹیوں کی تیکھی نظروں کا سامنا کرنے جیسے پریشان کن تجربے سے نا گزرنا پڑا ہو. بعض اوقات تو بیچاری لڑکی کو آنے والے مہمانوں میں ذرہ بھر دلچسپی نہیں ہوتی لیکن وہ ان کے سامنے پیش ہونے پر مجبور ہوتی ہے. اب ایسی صورت میں کیسے کوئی چہک چہک کر مہمانوں سے باتیں کر سکتا ہے . ایک ایسی ہی لڑکی نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بتایا کہ ”میرے والد نے ایک فیملی کو میرے رشتے کے لئے آنے کی دعوت دے دی لیکن مجھے وہ لوگ بالکل پسند نہیں تھے. مجبوراً مجھے ان کے سامنے جانا پڑا لیکن میں جب تک ان کے پاس بیٹھی روتی رہی. وہ لوگ میری مرضی کے بغیر میری تصاویر بناتے رہے اور پھر وہیں بیٹھے ’ہاں‘ بھی کہہ دی جس میں اور اونچی آواز میں رونے لگی.“ ایک اور لڑکی نے رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والی فیملی کی توہم پرستی کے بارے میں بتایا ”میرا تجربہ تو اچھا تھا اور وہ لوگ بھی بہت اچھے لگ رہے تھے لیکن انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ’ہم نے لڑکی کا زائچہ نکالا ہے، یہ ہمارے حق میں بہتر نہیں نکلی.‘ “ ایک اور لڑکی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ظاہر کرتا ہے کس طرح ہمارے

معاشرے میں لڑکی دیکھنے کے لئے نکلنے والی ماﺅں کے مطالبات آسمان کو چھو رہے ہوتے ہیں، اپنا بیٹا چاہے جیسا بھی ہو. اس لڑکی نے بتایا کہ ”جب میرا پہلا رشتہ آیا تو میری عمر 19 سال تھی لیکن لڑکے کی عمر 30 سال سے بھی زیادہ تھی. وہ طلاق یافتہ بھی تھا لیکن اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ انہیں ڈاکٹر بہو کی تلاش ہے.“ ایک اور لڑکی نے بتایا کہ ”مجھے ایک فیملی نے ایک فوتگی کے موقع پر دیکھا اور پھر ہمارے رشتہ داروں کو لے کر مجھے دیکھنے چلے آئے. میرے گھر والوں نے یہ رشتہ فوری طور پر رد کر دیا.“ اب ایسی فیملی کا کوئی کیا کر سکتا ہے؟ انہیں انکار ہی ہونا تھا. روایات اور ثقافت کا فرق بیان کرنے والا ایک واقعہ سناتے ہوئے ایک لڑکی نے بتایا ”میرا رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والی فیملی کو میرے والد نے بتایا ’میں نے تو اپنی بیٹی کی تربیت بہت کھلے ماحول میں کی ہے اور اسے بہت آزادی دی ہے.اس پر رشتہ دیکھنے کے لئے آنے والی آنٹی کہنے لگیں ’ہماری بیٹی تو مغرب سے پہلے گھر آ جاتی ہے.‘ میں اپنی والدہ کے پہلو میں بیٹھی تھی. انہوں نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ’اپنے کمرے میں جاﺅ!“‘ اور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو رشتے کو بھی کاروبار کی نظر سے دیکھتے ہیں. ایک ایسی ہی فیملی کے متعلق ایک لڑکی نے بتایا ”مجھے دیکھنے کے لئے آنے والی فیملی کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کافی پیسہ ہے اور وہ اپنے بیٹھے کو میڈیکل سٹور کھول کر دینا چاہتے تھے. ان کا خیال تھا کہ میرا فارمیسی کا سرٹیفکیٹ اس کاروبار کے لئے بڑا فائدہ مند ثابت ہو گا. انہیں مجھے سے زیادہ میرے فارمیسی کے سرٹیفکیٹ میں دلچسپی تھی تا کہ اسے میڈیکل سٹور کا لائسنس حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکے.“

..

سروے