جو لوگ بچوں کی پیدائش کو روکتے ہیں اُن کے بارے میں آپ ﷺ کا ایک قصہ - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

جو لوگ بچوں کی پیدائش کو روکتے ہیں اُن کے بارے میں آپ ﷺ کا ایک قصہ


اسلام آباد(قدرت روزنامہ) مومن بھی ولی ہے !!! قارئین کرام! آپ نے دیکھ لیا کہ جن معنوں اور مفاہیم میں اللہ تعالیٰ نے ولی ہے،ان معنوں میں دوسرا کوئی ولی نہیں ہے .باقی مومن بھی ولی ہے مگر وہ ولی ان معنوں میں ہیں کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے کام آنے والے،خوشی اور غمی میں ایک دوسرے کا ساتھ دینے والے ہوتے ہیں اور سب سے بڑی مددگاری یہ ہے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت پر قائم رکھتے ہیں.

چنانچہ ان معنوں میں دیکھیے ان اولیائے کرام کی صفات حمیدہ....کہ وہ ولی کیسے ہوتے ہیں؟ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَٱلْمُؤْمِنُونَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍۢ ۚ يَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَيُطِيعُونَ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ ٱللَّهُ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌۭ ﴿71﴾ ترجمہ: اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں ایک دوسرے کےمددگار ہیں نیکی کا حکم کرتے ہیں اوربرائی سے روکتے ہیں اورنماز قائم کرتے ہیں اور زکواة دیتے ہیں اور الله اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں یہی لوگ ہیں جن پر الله رحم کرے گا بے شک الله زبردست حکمت والا ہے (سورۃ التوبہ،آیت 71)قارئین کرام! اس فرمان الہی سے معلوم ہوا کہ ولی وہ ہے جو : 1. نیکی کی تلقین کرے. 2. برائی سے روکے. 3. نماز قائم کرے. 4. زکوۃ ادا کرے. 5. اللہ کی اطاعت کرے. 6. رسول (ﷺ) کی اطاعت بجا لائے. یہ چھ خصوصیات جن میں پائی جائیں وہ ولی ہیں یعنی وہ مومن جو ان خصوصیات کے حامل ہیں وہ ولی ہیں.قرآن و حدیث میں یہ کہیں نہیں آیا کہ ولی وہ ہوتے ہیں جن سے کرامات کا ظہور ہو اور جھوٹے سچے قصے ان کے بارے میں معروف ہوں.حیرت ہے کہ آج ولیوں کا ایک پورا گروہ پیدا ہو گیا ہے اور بعض نسل در نسل چلتے ہیں.باپ مر گیا تو بیٹا گدی نشین بن کر ولی بن گیا پھر پوتا ولی بن گیا،یوں ولیوں کی نسل پیدا ہو گئی ہیں اور ہوتی چلی جا رہیں ہیں. یاد رکھیے!ولیوں کے ماننے کا مطلب یہی ہے کہ جو شخص مندرجہ بالا چھ خصوصیات کا حامل ہو

اس کے بارے میں حسن ظن رکھا جائے کہ وہ اللہ کا ولی ہے .باقی ہم کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے کہ وہ اللہ کا ولی ہے کیونکہ اللہ اپنے جس بندے کو ولی بنائے گا تو مندرجہ بالا خصوصیات کی بنا پر بنائے گا .اس نے کس کو بنایا ہے اور کس کو نہیں بنایا،ہمیں کچھ معلوم نہیں.اور یاد رکھیے!ہم جس شخص کے بارے میں حسن ظن رکھ کر اسے اللہ کا ولی یعنی اللہ کا دوست سمجھتے ہیں تو اسے ماننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم دیتا ہے،دوسرے معنوں میں قرآن و حدیث کے احکامات کی روشنی میں وہ ہمیں نیکی کا حکم کرتا ہے اور برائی سے روکتا ہے تو ہم اس کے اس وعظ و نصیحت سے فائدہ اٹھائیں،اس پر عمل کریں،ایسا کرنے والے کی عزت و توقیر کریں اور اس کا احترام کریں. لیکن احترام کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اللہ کا شریک بنا کر اس کی پوجا کرنے لگ جائیں.اس کے مرنے کے بعد اس کی قبر کو عبادت گاہ اور میلا گاہ بنا لیں.اس بات کو ایک دوسرے انداز سے یوں سمجھیں کہ ماں بھی عورت ہے اور بیوی بھی عورت ہے.ماں کا اس قدر بلند مقام ہے کہ اللہ نے قرآن میں متعدد مقامات پر جہاں اپنی بندگی کا ذکر کیا اس کے فورا بعد ماں باپ کی اطاعت کا تذکرہ کیا.وجہ یہ ہے

کہ اللہ نے بندے کو پیدا کیا تو پیدائش کا سبب ماں باپ کو بنایا.اللہ نے ان دونوں میں بھی پھر ماں کے مقام کو مقدم رکھا کیونکہ وہ بچے کو نو ماہ تک تکلیف کے باوجود پیٹ میں اٹھائے پھرتی ہے.اسی لیے اللہ کے رسول ﷺ نے بھی ایک نوجوان کو جو نصیحت کی تو ماں کے اکرام کی بات تین مرتبہ کی جبکہ باپ کا ذکر ایک بار کیا.اب کوئی نادان یوں کرے کہ بیوی کی محبت میں مبتلا ہو کر اس قدر آگے چلا جائے،اس کی عزت و توقیر میں اس حد تک چلا جائے کہ بیوی کو ماں کہنا شروع کر دے تو کیا ہو

..

مزید خبریں :

سروے