وہ شہر جسے اللہ کے عذاب نے تباہ کردیا، آتش فشاں نے ہر چیز کو لپیٹ میں لے لیا، لیکن اس کے بعد پھر وہاں کیا ہوتا رہا؟ پہلی مرتبہ سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا - Daily Qudrat
Can't connect right now! retry

وہ شہر جسے اللہ کے عذاب نے تباہ کردیا، آتش فشاں نے ہر چیز کو لپیٹ میں لے لیا، لیکن اس کے بعد پھر وہاں کیا ہوتا رہا؟ پہلی مرتبہ سائنسدانوں کو ایسی چیز مل گئی کہ ہر کوئی دنگ رہ گیا


روم(قدرت روزنامہ) اٹلی کا قدیم شہر پومپئی صدیوں قبل ایک ایسے دردناک عذاب کا نشانہ بنا کہ جس کے عبرتناک آثار آج بھی باقی ہیں. یہ سارے کا سارا شہر ہی آتش فشاں کے لاوے اور آتشی راکھ کے نیچے دفن ہو گیا تھا. کہتے ہیں کہ یہ شہر بے حیائی اور فحاشی کا ایسا مرکز تھا کہ ہوس کے پجاری دور دور سے یہاں آیا کرتے تھے. صدیوں قبل تباہ ہونے والے اس شہر کے زمین میں دفن کھنڈرات ایک سے بڑھ کر ایک عجوبے کی صورت میں اب بھی سامنے آ رہے ہیں.

آتش فشاں ماﺅنٹ وسوئیس کی صدیوں سے جمی ہوئی راکھ سے ایک ایسا ہی عجوبہ گزشتہ دنوں دریافت ہو گیا ہے. یہ ایک گھوڑا ہے جو آتش فشانی راکھ میں دفن ہو کر ایک مجسمے کی صورت میں آج تک باقی ہے. دی انڈیپینڈنٹ کے مطابق مقامی حکام کو خبر ملی تھی کہ اس قدیم شہر کے کھنڈرات میں خزانے کے متلاشی افراد غیر قانونی کھدائی کررہے ہیں. ان لوگوں نے قدیم شہر کے کھنڈرات میں خزانہ تلاش کرنے کے لئے لمبی سرنگیں کھود رکھی تھیں. سرکاری اہلکاروں کے پہنچنے پر یہ لوگ فرار ہوگئے مگر جب اہلکار ان سرنگوں میں اترے تو انہیں کچھ حیرت انگیز چیزیں دیکھنے کو ملیں. کھنڈرات کے شمالی علاقے میں ایک سرنگ قدیم دور کے ایک اصطبل تک جاتی تھی. اس اصطبل کے قریب ہی ایک بڑے محل کے کھنڈرات بھی ملے جبکہ یہ گھوڑا بھی مجسم حالت میں ملا. جس

جگہ اس کے جسم کی موجودگی کے باعث خلا موجود تھا وہاں پلاسٹک آف پیرس بھرکر اس کا مجسمہ تیار کیا گیا ہے. اسی تکنیک سے اس شہر میں آتش فشاں کے لاوے کا نشانہ بننے والے انسانوں کے مجسمے بھی تیار کئے گئے ہیں. تاریخ دان کہتے ہیں کہ اس شہر پر لاوے کا عذاب 79 صدی عیسوی میں آیا تھا جس میں پورے کا پورا شہر تباہ ہوگیا تھا اور شہر کے سب باسی لاوے اور آتش فشانی راکھ میں دب گئے تھے.

..

مزید خبریں :

سروے